امریکی پابندیاں مذاکرات کی پیشکش کا کھوکھلا پن ظاہر کرتی ہیں ایران

امریکا نے حال ہی میں ایران کے سب سے بڑے پیٹروکیمیکل گروپ پر پابندی عائد کردی ہے

ایران اور امریکا کے درمیان خلیج عمان میں تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فوٹو : فائل

ايران نے امريکا کی جانب سے تازہ اقتصادی پابندیوں کے تحت تہران کے سب سے بڑے پیٹرو کیمیکل گروپ پر قدغن لگانے کو مذاکرات کی پیشکش کے مناقفانہ ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے پیٹرو کیمیکل گروپ پر امریکا کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کو اقتصادی پابندیوں کی نئی لہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے امریکا کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش کا بھانڈہ پھوٹ گیا ہے جو محض ایک منافقانہ عمل تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا کہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کی پیشکش کو کھوکھلا اور غیر سنجیدہ ہونے میں صرف ایک ہفتہ لگا۔ عالمی برادری کو امریکا کی چال بازیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔


یہ خبر بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ جاپان کی ثالثی میں ایران سے مذاکرات پر آمادہ

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے پییٹروکیمیکل گروپ پر ايران کے پاسداران انقلاب کی مالی معاونت کرنے کا الزام عائد کرکے پابندی عائد کردی تھی، پاسداران انقلاب کو امریکا پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

واضح رہے کہ دورہ جاپان کے موقع پر امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرتی عمل کے لیے وزیراعظم شنزو آبے کی ثالث بننے کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا تھا تاہم ایران نے امریکی پیشکش کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے انکار کردیا تھا۔
Load Next Story