ٹی وی رائٹس کی فروخت شفاف ہونے پر سوالیہ نشان ثبت
عبوری چیئرمین نجم سیٹھی جس ادارے سے وابستہ ہیں وہ میڈیا رائٹس کے بھی امیدواروں میں شامل ہے۔
کمیٹی کے ارکان ہفتے کو بھی معاملات پر غور کرتے رہے لیکن نشریاتی حقوق حاصل کرنے والے ادارے کا نام سامنے نہیں آسکا. فوٹو: فائل
MAJDAL SHAMS, GOLAN HEIGHTS:
جنوبی افریقہ اور سری لنکا کیخلاف سیریز کے میڈیا رائٹس کی فروخت شفاف ہونے پر سوالیہ نشان ثبت ہوگیا، ٹینڈرز کھولے جانے کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہ کیے جانے سے شکوک و شبہات جنم لینے لگے، معاہدے کو خفیہ دستاویز بناتے ہوئے میڈیا سے حقائق چھپانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا رائٹس کی فروخت کیلیے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، اسے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں شیڈول سیریز کے نشریاتی حقوق کا معاہدہ مکمل کرنے کی ذمہ داری سپرد سونپی گئی، نجم سیٹھی جس ادارے سے وابستہ ہیں وہ میڈیا رائٹس کے بھی امیدواروں میں شامل ہے، مقررہ تاریخ پر ٹینڈرز ضرور کھولے گئے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اجلاس ملتوی کرتے ہوئے خواہشمند اداروں کو دوبارہ پیشکش جمع کرانے کیلیے کہا گیا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ارکان ہفتے کو بھی معاملات پر غور کرتے رہے لیکن نشریاتی حقوق حاصل کرنے والے ادارے کا نام سامنے نہیں آسکا، دوسری طرف معاملات کو شفاف رکھنے کا دعویٰ بھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا، 2 روز میں ہونے والی پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ کرنے کے بجائے دوران میٹنگ این سی اے کی عمارت کو ہی نو گو ایریا بنادیا گیا،کوئی تفصیل سامنے نہیںلائی جارہی جس سے شکوک شبہات جنم لے رہے ہیں۔ پروٹیز کے خلاف سیریز کے انعقاد میں زیادہ وقت باقی نہیں، تاخیر سے معاہدہ حاصل کرنے والے چینل کو بھی انتظامات میں پریشانی ہوگی۔
جنوبی افریقہ اور سری لنکا کیخلاف سیریز کے میڈیا رائٹس کی فروخت شفاف ہونے پر سوالیہ نشان ثبت ہوگیا، ٹینڈرز کھولے جانے کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہ کیے جانے سے شکوک و شبہات جنم لینے لگے، معاہدے کو خفیہ دستاویز بناتے ہوئے میڈیا سے حقائق چھپانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا رائٹس کی فروخت کیلیے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، اسے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں شیڈول سیریز کے نشریاتی حقوق کا معاہدہ مکمل کرنے کی ذمہ داری سپرد سونپی گئی، نجم سیٹھی جس ادارے سے وابستہ ہیں وہ میڈیا رائٹس کے بھی امیدواروں میں شامل ہے، مقررہ تاریخ پر ٹینڈرز ضرور کھولے گئے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اجلاس ملتوی کرتے ہوئے خواہشمند اداروں کو دوبارہ پیشکش جمع کرانے کیلیے کہا گیا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ارکان ہفتے کو بھی معاملات پر غور کرتے رہے لیکن نشریاتی حقوق حاصل کرنے والے ادارے کا نام سامنے نہیں آسکا، دوسری طرف معاملات کو شفاف رکھنے کا دعویٰ بھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا، 2 روز میں ہونے والی پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ کرنے کے بجائے دوران میٹنگ این سی اے کی عمارت کو ہی نو گو ایریا بنادیا گیا،کوئی تفصیل سامنے نہیںلائی جارہی جس سے شکوک شبہات جنم لے رہے ہیں۔ پروٹیز کے خلاف سیریز کے انعقاد میں زیادہ وقت باقی نہیں، تاخیر سے معاہدہ حاصل کرنے والے چینل کو بھی انتظامات میں پریشانی ہوگی۔