جھنڈا لگانے پر جھگڑا بی جے پی کے 3 اور مخالف جماعت کا ایک کارکن ہلاک

بے جے پی کی پورے بھارت بالخصوصی مغربی بنگال سے غیر یقینی کامیابی کے بعد ہندو انتہاپسندوں کی چیرہ دستیاں مزید بڑھ گئیں

سیاسی جماعت کے کارکنوں کے درمیان تصادم پارٹی جھنڈا لگانے پر ہوا۔ فوٹو : بھارتی میڈیا

KARACHI:
بھارت میں پارٹی جھنڈا لگانے پر ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں حکمراں جماعت کے 3 اور ترینمول پارٹی کا ایک کارکن ہلاک جب کہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال میں مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور مقامی جماعت آل انڈیا ترینمول کانگریس پارٹی کے کارکنان کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی مسلح جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔

بی جے پی کے کارکنان ترینمول پارٹی کے جھنڈے اتار کر اپنی جماعت کا جھنڈا لہرا رہے تھے جس کے باعث دونوں جماعتوں کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا جس میں 4 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔



ہلاک ہونےوالوں میں سے 3 بی جے پی کے کارکن ہیں جب کہ ایک ترینمول پارٹی کا کارکن ہے جب کہ زخمی ہونے والوں میں دونوں جماعتون کے کارکنان شامل ہیں جنہیں قریب اسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی۔


مغربی بنگال گزشتہ 2 دہائیوں سے ترینمول پارٹی کا گڑھ رہا ہے جو کہ بی جے پی کی سخت مخالف جماعت ہے، بی جے پی کی جانب سے بھی سابق وزیراعلیٰ اور پارٹی رہنما ممتا بنر جی پر سخت اور فحش تنقید کی جاتی رہی ہے۔



لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال میں حیران کن نتائج سامنے آئے، ریاست مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترینمول نے اپنی 12 جیتی ہوئی نشستیں ہاریں جب کہ بی جے پی جس کی صرف 2 نشستیں ہوا کرتی تھیں اس بار 18 نشستیں لے اُڑی۔

بی جے پی کی ناقابل یقین کامیابی سے ریاست میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے، جہاں بی جے پی کے کارکنان اپنا دائرہ وسعت کر رہے ہیں تو وہیں شکست خوردہ ترینامول کے کارکنان سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔



واضح رہے کہ ترینمول پارٹی 1998 میں کانگریس سے علیحدہ ہونے والے چند رہنماؤں نے قائم کی تھی جسے آل انڈیا ترینمول کانگریس کا نام دیا گیا، اس جماعت کی لوک سبھا میں 22، راجیہ سبھا میں 13 اور ویسٹ بنگال اسمبلی میں 213 نشستیں ہیں اور ریاست ویسٹ بنگال میں بلا شرکت غیرے حکمراں ہے۔
Load Next Story