3 جماعتوں کی 100 دن کی کارکردگی متاثرکن نہیں طلعت حسین
کراچی میں چوری ہونے والے اسلحے کے کنٹینر کو تلاش کر کے عوام کے سامنے لانا چاہیے تھا، سینئیر اینکر پرسن
عمران کو وژن بڑھانے کی ضرورت ہے، پی پی کوماضی سے نکلنا ہوگا، لائیو ود طلعت میں گفتگو۔ فوٹو: فائل
الیکشن 2013ء کے بعد پاکستان میں بننے والی حکومت کے ابتدائی سو دنوں پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ حکمران تینوں جماعتوں کی 100 دنوں کی کارکردگی متاثرکن نہیں۔
ایکسپریس نیوز پر اپنے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان سید طلعت حسین نے کہا کہ کراچی آپریشن کی باتیں کی جا رہی ہیں میرے بہت سے اعتراضات ہیں پہلے کراچی میں عوامی رائے کو ہموار کرنا چاہیے تھا جس طرح کراچی میں اسلحہ کے کنٹینر چوری ہوئے ان کو تلاش کر کے عوام کے سامنے لانا چاہیے تھا۔نوازشریف اداروں کے ذریعے فیصلہ سازی کارحجان نہیںرکھتے،وہ کچن کیبنٹ اورچند لوگوں میں مشاورت کواہمیت دیتے ہیں۔
اگر طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں توپھر نوازشریف کواسٹینڈ لینا پڑے گا، شام کے بارے میں کیا پالیسی ہے اگر شام پر حملہ ہوگیا تو پاکستان پر بھی ہو سکتا ہے۔حکومت کے ابتدائی سودنوں میں پی ٹی آئی بھی وہ کچھ کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا انھوں نے الیکشن سے قبل وعدہ کیا تھا، عمران خان کو وژن بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگرآپ تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو تبدیلی کے پی کے میں داخل ہوتے ہی نظر آنی چاہیے۔ پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ سندھ کوسنبھالیں اورکام کر کے دکھائیں۔ اگر پیپلزپارٹی اس مرتبہ سندھ میں اچھاکردار نبھا گئی تو پارٹی پر عوام کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔
ایکسپریس نیوز پر اپنے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان سید طلعت حسین نے کہا کہ کراچی آپریشن کی باتیں کی جا رہی ہیں میرے بہت سے اعتراضات ہیں پہلے کراچی میں عوامی رائے کو ہموار کرنا چاہیے تھا جس طرح کراچی میں اسلحہ کے کنٹینر چوری ہوئے ان کو تلاش کر کے عوام کے سامنے لانا چاہیے تھا۔نوازشریف اداروں کے ذریعے فیصلہ سازی کارحجان نہیںرکھتے،وہ کچن کیبنٹ اورچند لوگوں میں مشاورت کواہمیت دیتے ہیں۔
اگر طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں توپھر نوازشریف کواسٹینڈ لینا پڑے گا، شام کے بارے میں کیا پالیسی ہے اگر شام پر حملہ ہوگیا تو پاکستان پر بھی ہو سکتا ہے۔حکومت کے ابتدائی سودنوں میں پی ٹی آئی بھی وہ کچھ کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا انھوں نے الیکشن سے قبل وعدہ کیا تھا، عمران خان کو وژن بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگرآپ تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو تبدیلی کے پی کے میں داخل ہوتے ہی نظر آنی چاہیے۔ پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ سندھ کوسنبھالیں اورکام کر کے دکھائیں۔ اگر پیپلزپارٹی اس مرتبہ سندھ میں اچھاکردار نبھا گئی تو پارٹی پر عوام کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔