اقتصادی سروے رپورٹ چشم کشا حقائق

پاکستان کے امیر لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے،اگر ٹیکسز جمع نہ کیے گئے تو اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے۔

پاکستان کے امیر لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے،اگر ٹیکسز جمع نہ کیے گئے تو اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے۔ فوٹو: فائل

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں معاشی استحکام اور اداروں کی بہتری کے لیے سات نکاتی حکمت عملی کا اعلان کردیا اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پہلے مالی سال کے دوران تمام اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی، ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، عوام کو مہنگائی برداشت کرنا ہوگی ۔پریس کانفرنس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داود ،وزیر توانائی عمر ایوب،وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر،چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی،سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ سمیت دیگر ٹیم ممبران بھی موجود تھے۔


اس موقعے پر جاری کی گئی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران معاشی ترقی کا ہدف 6.2فیصد تھا لیکن یہ شرح 3.3 فیصد رہی۔ اقتصادی سروے رپورٹ میں ملکی تاریخ کے انتہائی نازک دورانیے میں غیر معمولی ترقی معکوس کا اعصاب شکن منظر نامہ ماہرین معاشیات کو حیرت زدہ کرگیا ہے ، فہمیدہ معاشی مسیحاؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو وقت کی ''ٹائٹ روپ واکنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔''

اگر مہنگائی کا بد نصیب سونامی قوم کا منتظر ہے تو اہل وطن سوچیں کہ قومی انداز فکروعمل زمینی حقائق سے کسی قسم کی مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ قوم کو مشکل ترین فیصلوں کے لیے تیار رہنا چاہیے،اور یہ فیصلے وہ خلاء میں یا سیاسی زمینی حقائق سے لاتعلق رہتے ہوئے کبھی نہیں کرسکے گی،حکومت اور اپوزیشن کو مل کر معاشی سرنگ سے قوم کو باہر نکالنا ہوگا۔

سروے رپورٹ میں کوئی سلور لائننگ بظاہر نہیں تو اس کے لیے بھی ماہرین معاشیات عوام کی رہنمائی کریں ،ان کا اعتماد بحال کریں، جو حقائق ہیں انھیں بلا کم وکاست قوم کو سامنے رکھیں، بتائیں کہ حکمرانوں کا روڈ میپ یہ ہے جو مشکل صورتحال میں کچھ جرات مندانہ اقدامات کا تقاضہ کررہی ہے، قومیں صبر آزما آزمائشوں سے سرخرو ہوکر ہی نکلتی ہیں، اس وقت قوم ایک پیچ پر ہے اسے معاشی مسیحا اسی پیج پر رکھنے کا ایسا پیرڈائم شفٹ تجویز کریں کہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کا بھنور عوامی فلاح وبہبود کا پیغام لائے۔

اعداد وشمار کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نموکا ہدف 3.8 فیصد تھا جو 0.85 فیصد رہی ، بڑی فصلوں کی گروتھ 3 فیصد ہدف کے مقابلے میں منفی 6.55 فیصد جب کہ دیگر فصلوں شرح نمو 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 1.95 فیصد رہی۔ کاٹن جننگ کے شعبے کی گروتھ 8.9 فیصد ہدف کے مقابلے میں منفی 12.74 فیصد رہی ہے۔لائیو اسٹاک کے شعبے نے 4 فیصد کی شرح سے ترقی کی، اس شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.8 فیصد تھا۔


ماہی گیری کے شعبے میں شرح اپنے ہدف 1.8 فیصد کے مقابلے میں 0.79 فیصد ، صنعتی شعبے کی ترقی 7.6فیصد ہدف کے مقابلے میں 1.40 فیصد ، کان کنی کے شعبے کی گروتھ اپنے ہدف 3.6 فیصد کے مقابلے میں منفی 1.96 فیصد رہی، چھوٹی صنعتوں کی گروتھ ہدف کے مطابق 8.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی کی شرح 10 فیصد ہدف کے مقابلے میں7.57 فیصد، خدمات کے شعبے کی ترقی کی شرح اپنے ہدف 6.5 کے مقابلے میں 4.71 فیصد رہی ، تھوک اور پرچون کے کاروبار کی ترقی کی شرح اپنے ہدف 7.8 کے مقابلے میں 3.11 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

ٹرانسپورٹ ،اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں 3.34 فیصد کی شرح سے گروتھ ہوئی، ان شعبوں کی ترقی کا ہدف 4.9 فیصد مقرر تھا، فنانس اینڈ انشورنس کے شعبوں میں ترقی کی شرح کا ہدف 7.5 فیصد مقرر تھا لیکن ان شعبوں میں ترقی کی شرح 5.14 فیصد رہی۔ ہاؤسنگ سروسز کے شعبے میں ہدف کے مطابق چار فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی، عمومی سرکاری خدمات کے شعبوں میں ترقی کی شرح 7.99 فیصد رہی، ان شعبوں میں ترقی کی شرح کا ہدف 7.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ملکی معیشت کو خطرات لاحق ہیں، درپیش چیلنجز و مسائل سے نمٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اگر ایسا نہ کیا تو ڈیفالٹ کر جائیں گے، مشیر خزانہ کے مطابق حکومت نے اخراجات کم نہیں کیے۔

اس لیے جب بجٹ خسارہ 2.3 ٹریلین روپے ہوگا اور آمدنی سے زیادہ اخراجات کریں گے تو اس کے اثرات ہونگے اور اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑے گا، ماضی کی حکومتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا ۔ موجودہ حکومت نے اپنے دور میں اب تک مجموعی طور پر 2854 ارب روپے قرضہ لیا جن میں سے 1221ارب روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا اور 1603 ارب روپے کے نیٹ قرضے لیے۔ ملک پر بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالر ہے اور جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ملک پر مجموعی طور پر31 ہزار ارب روپے قرضہ تھا۔ اگلے سال صرف سود کی مد میں ادائیگیوں پر تین ہزار ارب روپے خرچ ہونگے۔ پچھلے دس سال میں ڈالر کمانے کی صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، پانچ سال میں ایکسپورٹ کی گروتھ زیرو فیصد رہی۔ اس وجہ سے روپے پر دباؤ ہے۔ گذشتہ دو سال میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر18 ارب ڈالر سے کم ہوکر9 ارب ڈالر ہوگئے۔

تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تھا، میرا مقصد بلیم گیم کرنا نہیں ہے ۔کافی عرصے سے ملک کے حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔ ملائیشیاء سنگار پور سمیت آگے بڑھنے والے سب ملکوں میں ایک چیز مشترک ہے ان ممالک نے اپنی اشیاء دوسرے ممالک کو فروخت کیں۔ رواں سال 23 سو ارب روپے آمدنی سے زائد اخراجات رہے۔2018 میں جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو قرضوں کی مالت31 ہزار ارب روپے تھی آیندہ سال قرضوں پر سود کی مد میں تین ہزار ارب روپے دینا ہوں گے۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امیر لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے،اگر ٹیکسز جمع نہ کیے گئے تو اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے۔ ایک دو دنوں میں بڑے فیصلے سامنے آئیں گے، آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ کتنے بڑے فیصلے کیے جائیں گے جن میں کفایت شعاری نظر آئے گی حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ادھر اْدھر سے فنانسنگ کا انتظام کرکے ملک کو مستقل طور پر خوشحال نہیں بنایا جاسکتا ، اس کے لیے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا اور اپنے لوگوں پر توجہ دینا اور ان کی مہارت بڑھانا ہوگی ۔انھوں نے کہا کہ ریلوے،پی آئی اے سمیت دیگر ادارے اندر سے کھوکھلے ہوچکے ہیں ان اداروں کو ایک انداز سے لوٹا گیا ہے۔ پیسہ عوام پر لگنے کے بجائے ان سفید ہاتھیوں کو دھکا لگاکر چلانے پر لگایاجارہا ہے ۔

پبلک سیکٹر اداروں کو چلانے کے لیے تیرہ سو ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ ان اداروں کو درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ رضا باقر آئی ایم ایف سے استعفٰی دے کر آئے ہیں اور وہ (حفیظ) بھی استعفیٰ دے کر آئے ہیں، ہم لاکھوں ڈالر تنخواہ چھوڑ کر ملک کی خدمت کے لیے آئے ہیں جو لوگ لاکھوں ڈالر کی نوکریاں چھوڑ کر ملکی خدمت کے لیے آتے ہیں ان کی حب الوطنی پر سوالات اٹھانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو فرسٹریشن اور مہنگائی کے بوجھ سے نجات ملے، ریلیف کا واضح پیغام سامنے آئے اور قوم یکسوئی کے ساتھ معاشی بحران سے نجات حاصل کرے۔ معاشی ناخداؤں سے قوم کو بریک تھرو کی امید رکھنی چاہیے۔
Load Next Story