کینیڈا میں پلاسٹک کی اشیاء پر مکمل پابندی کی تیاریاں

پلاسٹک کی اشیاء 70فیصد سمندری حیات کو متاثر کرتی ہیں۔


Editorial June 12, 2019
پلاسٹک کی اشیاء 70فیصد سمندری حیات کو متاثر کرتی ہیں۔ فوٹو: فائل

پلاسٹک (شاپر بیگز) اور پلاسٹک کی دیگر اشیاء نے جہاں عوام کے لیے بعض آسانیاں پیدا کیں وہیں پلاسٹک کے پانی (یا مٹی وغیرہ) میں جذب نہ ہونے کی وجہ سے پلاسٹک ماحولیات کے لیے بہت مضر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے آثار حال ہی میں منظر عام پر آنے والی خبروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک بڑی مچھلی کے پیٹ کے اندر سے چالیس کلو گرام کے لگ بھگ پلاسٹک کا ایک گولا نکلا جو اس مچھلی کی جان بھی لے گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آبی حیات کے لیے پلاسٹک کس قدر مہلک شے ہے۔

ایک خبر یہ بھی تھی کہ کئی امیر ممالک استعمال شدہ پلاسٹک کے کنٹینر سمندری راستے سے کمزور ممالک کو بھجوا دیتے ہیں کہ ان کو خود ہی تلف کرو لیکن حال ہی میں ملائیشیا نے پلاسٹک کے بھرے ہوئے کنٹینر واپس ان ممالک کو بھجوانے کا حکم دیدیا جہاں سے وہ آئے تھے۔

پلاسٹک کے مضر اثرات کے سامنے آنے کے بعد پلاسٹک مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بھی منظر عام پر آنے لگیں اور اب تازہ ترین خبر کے مطابق کینیڈا نے سنگل یوز پلاسٹک (یعنی شاپر بیگز میں استعمال ہونے والے پلاسٹک پر 2021سے مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ پلاسٹک بیگز' اسٹراز اور پلاسٹک کٹلری کی اشیاء کی وجہ سے دنیا کے سمندروں کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے لہٰذا پلا سٹک مصنوعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ کینیڈا 2021 سے پلاسٹک مصنوعات پر مکمل پابندی عائد کر دے گا کیونکہ ایک ساحل سمندر سے لے کر دوسرے ساحل سمندر تک یہ اشیاء نقصان دہ ہیں۔ جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا کے سمندری ساحل دنیا میں سب سے زیادہ لمبے ہیں، اس لیے کینیڈا پلاسٹک پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔

مسٹر ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا میں دس فیصد سے بھی کم پلاسٹک استعمال کیا جارہا ہے اور اس کو بھی ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ہر سال دس لاکھ پرندے اور ایک لاکھ سے زیادہ سمندری حیات پلاسٹک کی وجہ سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔ پلاسٹک کی اشیاء 70فیصد سمندری حیات کو متاثر کرتی ہیں۔

کینیڈین وزیراعظم نے کہا آپ سب نے پلاسٹک کے مضر اثرات پر خبریں سنی ہوںگی اور تصاویر بھی دیکھی ہوں گی لیکن ایک باپ ہونے کی حیثیت سے میرے لیے اپنے بچوں کو یہ بات سمجھانی بہت مشکل ہے اور انھیں کیسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ بحرالکاہل کے سب سے دور دراز اور سب سے گہرے علاقے میں بھی پلاسٹک کی اشیاء کیوں اور کیسے پائی جاتی ہیں۔

دنیا بھر کے لوگوں کو ہر روز ان چیزوں کا مشاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم والدین ہونے کی حیثیت سے اپنے بچوں کو ساحل سمندر پر لے کر جاتے ہیں تو وہاں پلاسٹک کا کچرا بھرا ہوتا ہے اور ہمیں کوئی ایسی جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے جہاں پر اس مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اب تو سافٹ ڈرنکس کی بوتلیں بھی پلاسٹک سے بننے لگی ہیں اور بوتل پینے والے اسٹرا تو ہوتے ہی پلاسٹک کے ہیں چنانچہ کینیڈا کی حکومت ان تمام اشیاء پر پابندی عائد کر رہی ہے۔

مقبول خبریں