قرضوں کی تحقیقات کیلیے کمیشن 99ء سے بنایا جائے خورشید شاہ
مشرف دور کے سارے لوگ پی ٹی آئی میں ہیں اس لیے تحقیقات میں ڈکٹیٹر کے 10 سال شامل نہیں، خورشید شاہ
پی ٹی آئی کے جن افراد پر الزامات ہیں ان پر بھی کمیشن بنایا جائے، خورشید شاہ (فوٹو: فائل)
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے اعلان پر کہا ہے کہ کمیشن کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر یہ کمیشن 10 سال نہیں گزشتہ 20 سال کے لیے بنایا جائے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی سربراہی وزہراعظم کا خود رکھنے پر پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارے بھی جہان خان اور فیصلہ بھی جہان خان کرے، ہم قرضوں کی تحقیقات پر بننے والے کمیشن کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن یہ کمیشن گزشتہ 20 سال کی تحقیقات کرے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ ملک سے بھاگے ہوئے ڈکٹیٹر مشرف کے 10 سال شامل نہیں، کیا اس لیے کہ مشرف دور کے سارے لوگ اب پی ٹی آئی میں ہیں، پی ٹی آئی کے جو لوگ بیٹھے ہیں ان پر بھی بہت سے الزامات ہیں ان پر بھی کمیشن بنایا جائے۔
رہنما پی پی پی نے کہا کہ حالیہ بجٹ عوام کے لیے عذاب لے کر آیا ہے، سب کا فرض بنتا ہے، عوام کے حقوق کا تحفظ سب کا فرض ہے اس لیے اپوزیشن سمیت حکومتی اتحادی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اس بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں اور مہنگائی کے طوفان کے آگے بند باندھنے میں ہمارا ساتھ دیں، اتحادی اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ عوام پر لگائے گئے ٹیکسز واپس لیے جائیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی سربراہی وزہراعظم کا خود رکھنے پر پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارے بھی جہان خان اور فیصلہ بھی جہان خان کرے، ہم قرضوں کی تحقیقات پر بننے والے کمیشن کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن یہ کمیشن گزشتہ 20 سال کی تحقیقات کرے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ ملک سے بھاگے ہوئے ڈکٹیٹر مشرف کے 10 سال شامل نہیں، کیا اس لیے کہ مشرف دور کے سارے لوگ اب پی ٹی آئی میں ہیں، پی ٹی آئی کے جو لوگ بیٹھے ہیں ان پر بھی بہت سے الزامات ہیں ان پر بھی کمیشن بنایا جائے۔
رہنما پی پی پی نے کہا کہ حالیہ بجٹ عوام کے لیے عذاب لے کر آیا ہے، سب کا فرض بنتا ہے، عوام کے حقوق کا تحفظ سب کا فرض ہے اس لیے اپوزیشن سمیت حکومتی اتحادی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اس بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں اور مہنگائی کے طوفان کے آگے بند باندھنے میں ہمارا ساتھ دیں، اتحادی اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ عوام پر لگائے گئے ٹیکسز واپس لیے جائیں۔