معزول صدر مرسی کیخلاف قتل پر اکسانے کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ
آئین ساز کمیٹی میں معزول صدرمرسی کے حامی ارکان کوشامل نہیں کیا گیا، عبوری حکمراں آئین کے مسودے پر۔۔۔، اخوان المسلمون
اخوان المسلمون کے 14 دوسرے ارکان پر بھی قتل پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدما ت چلائے جائیں گے، سرکاری وکیل، مرسی کے حامیوں نے آج پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کردیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
مصرکے نئے آئین کی تشکیل کیلیے 50 رکنی پینل کا اعلان کردیا گیا جبکہ معزول صدر مرسی کے خلاف دسمبر 2012 میں7 افراد کو قتل کرنے کی ترغیب دینے پرمقدمہ چلایا جائے گا۔
مصر کے عبوری صدرعدلی منصور نے آئین کے ترمیمی مسودے کی تیاری کیلیے 50 رکنی پینل کا اعلان کیاہے جس میں معزول صدر محمد مرسی کی حامی اخوان المسلمون کے ارکان کوشامل نہیں کیا گیا۔ نئی آئین ساز کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا جس میں اسلام پسند سوچ رکھنے والے ارکان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اخوان المسلمون کے مطابق عبوری حکمراں آئین کے مسودے پرنظرثانی کا قانونی جوازنہیں رکھتے ان کی جانب سے یہ اقدام غیرقانونی ہوگا۔
دوسری جانب سابق صدرمرسی اور اخوان المسلمون کے دیگر 14 افراد پر بھی دسمبر 2012 میں 7 افراد کو قتل کرنے کی ترغیب دینے پرمقدمہ چلایاجائے گا۔ اس الزام کا تعلق اس واقعے سے ہے جس میں گذشتہ دسمبر میں قاہرہ کے صدارتی محل کے باہر تشدد میں 7 افراد مارے گئے تھے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وکیلِ استغاثہ نے سابق صدر کو مقدمہ چلانے کے لیے پیش کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ مرسی پر دسمبر 2012 میں قتل اور تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ معزول صدر پر اس سے قبل کچھ قیدیوں، افسروں اور جوانوں کے قتل عمد کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں نے آج پورے ملک میں اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے کے خلاف مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مصر کے عبوری صدرعدلی منصور نے آئین کے ترمیمی مسودے کی تیاری کیلیے 50 رکنی پینل کا اعلان کیاہے جس میں معزول صدر محمد مرسی کی حامی اخوان المسلمون کے ارکان کوشامل نہیں کیا گیا۔ نئی آئین ساز کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا جس میں اسلام پسند سوچ رکھنے والے ارکان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اخوان المسلمون کے مطابق عبوری حکمراں آئین کے مسودے پرنظرثانی کا قانونی جوازنہیں رکھتے ان کی جانب سے یہ اقدام غیرقانونی ہوگا۔
دوسری جانب سابق صدرمرسی اور اخوان المسلمون کے دیگر 14 افراد پر بھی دسمبر 2012 میں 7 افراد کو قتل کرنے کی ترغیب دینے پرمقدمہ چلایاجائے گا۔ اس الزام کا تعلق اس واقعے سے ہے جس میں گذشتہ دسمبر میں قاہرہ کے صدارتی محل کے باہر تشدد میں 7 افراد مارے گئے تھے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وکیلِ استغاثہ نے سابق صدر کو مقدمہ چلانے کے لیے پیش کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ مرسی پر دسمبر 2012 میں قتل اور تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ معزول صدر پر اس سے قبل کچھ قیدیوں، افسروں اور جوانوں کے قتل عمد کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں نے آج پورے ملک میں اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے کے خلاف مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔