شام کا بحران مزید سنگین ہوگیا
دمشق مسلح باغی گروپوں کو الیپو سے ادلب کی طرف روانہ کررہا ہے
دمشق مسلح باغی گروپوں کو الیپو سے ادلب کی طرف روانہ کررہا ہے۔ فوٹو: فائل
روسی طیاروں نے گزشتہ روز شام کے شمال مغربی علاقے میں شہری آبادی پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد مارے جانے کی اطلاعات میڈیا نے دی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مارے جانے والوں میں سویلین بھی شامل ہیں حالانکہ روس نے فائر بندی کا اعلان کر رکھا تھا۔ شام میں حقوق انسانی کا جائزہ لینے والی رسد گاہ کے اعلان کے مطابق روسی طیاروں نے شامی صوبہ ادلب کے جنوب اور صوبہ حما Hama کے شمال میں تین چار روز پہلے شام کے وقت گولہ باری کی جس میں مارے جانے والے 21 افراد کو جہادی قرار دیا گیا جب کہ برطانیہ میں قائم آبزرویٹری کے مطابق اسی روز جنگجوؤں نے بھی کارروائی کی۔ واضح رہے ادلب کے علاقے میں 30 لاکھ کے لگ بھگ شامی شہری بستے ہیں جن کے تحفظ کے لیے روس اور ترکی نے ایک سمجھوتے کے ذریعے اس علاقے کو بفرزون قرار دے رکھا ہے۔
یہ سمجھوتہ گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں عمل میں لایا گیا تھا۔ لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کرایا جاسکا کیونکہ مغربی ذرایع کے مطابق جہادیوں نے نشان زدہ علاقے سے باہر نکلنے سے انکار کردیا تھا۔ امسال جنوری کے مہینے میں جنگجوؤں کے ایک اتحاد نے اس علاقے کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا۔ اس زیر کنٹرول علاقے میں زیادہ علاقہ ادلب کا ہے۔ اس علاقے کے گردونواح میں لتاکیہ، حما اور الیپو کے صوبے شامل ہیں۔ برطانوی ابزرویٹری کے مطابق شامی حکومت اور روس نے اپریل کے مہینے میں یہاں بمباری شروع کردی جس کے نتیجے میں 360 سے زائد شہری مارے گئے تھے جب کہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں 3,70,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ شامی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مخالفین کے خلاف بدترین تشدد اور ہوائی حملے کیے جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ روس نے 2015ء سے شامی حکومت کی حمایت میں عسکری اعتبار سے اس کا ساتھ دینا شروع کیا اور اپوزیشن کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کردیں تاہم ترکی نے روس کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شام میں حکومت کی حمایت کرنے والوں میں روس اور ایران شامل ہیں۔ روس شام کے صدر بشارالاسد کا کلیدی اتحادی ہے جب کہ ترکی آٹھ سالہ خانہ جنگی میں باغی فورسز کا ساتھ دیتا رہا ہے تاہم اب اس کا مؤقف ہے کہ شام کو بفرزون کا احترام کرایا جانا چاہیے۔ جس بارے میں سمجھوتہ گزشتہ ستمبر میں عمل میں لایا جاچکا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا الزام ہے کہ دمشق مسلح باغی گروپوں کو الیپو سے ادلب کی طرف روانہ کررہا ہے۔
اس صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ مستقبل میں عسکریت پسند گروپوں کا قلع قمع کرنے کے عزم کو بروکار لاتے ہوئے ادلب پر بڑا حملہ کیا جاسکتا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ ادلب میں اس کی نگرانی کرنے والی چوکیوں پر گزشتہ مہینے سے دوبار حملے ہوچکے ہیں جن میں بے شمار لوگ ہلاک و زخمی ہوگئے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ترکی کا خاموش رہنا ممکن نہیں ہے، ہمیں جلد مثبت فیصلوں کا اعلان کرنا ہوگا۔ بہرحال شام کا بحران المیوں میں تبدیل ہوگیا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ عرب ممالک ، ایران اور ترکی بھی شام کے بحران کو حل کرنے میں سنجیدہ کوششیںنہیں کررہے ، ان ممالک کی پالیسیوں کی وجہ سے شام کے بحران میں امریکا اور روس اپنی پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ نقصان شامی عوام کا ہورہا ہے۔
یہ سمجھوتہ گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں عمل میں لایا گیا تھا۔ لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کرایا جاسکا کیونکہ مغربی ذرایع کے مطابق جہادیوں نے نشان زدہ علاقے سے باہر نکلنے سے انکار کردیا تھا۔ امسال جنوری کے مہینے میں جنگجوؤں کے ایک اتحاد نے اس علاقے کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا۔ اس زیر کنٹرول علاقے میں زیادہ علاقہ ادلب کا ہے۔ اس علاقے کے گردونواح میں لتاکیہ، حما اور الیپو کے صوبے شامل ہیں۔ برطانوی ابزرویٹری کے مطابق شامی حکومت اور روس نے اپریل کے مہینے میں یہاں بمباری شروع کردی جس کے نتیجے میں 360 سے زائد شہری مارے گئے تھے جب کہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں 3,70,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ شامی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مخالفین کے خلاف بدترین تشدد اور ہوائی حملے کیے جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ روس نے 2015ء سے شامی حکومت کی حمایت میں عسکری اعتبار سے اس کا ساتھ دینا شروع کیا اور اپوزیشن کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کردیں تاہم ترکی نے روس کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شام میں حکومت کی حمایت کرنے والوں میں روس اور ایران شامل ہیں۔ روس شام کے صدر بشارالاسد کا کلیدی اتحادی ہے جب کہ ترکی آٹھ سالہ خانہ جنگی میں باغی فورسز کا ساتھ دیتا رہا ہے تاہم اب اس کا مؤقف ہے کہ شام کو بفرزون کا احترام کرایا جانا چاہیے۔ جس بارے میں سمجھوتہ گزشتہ ستمبر میں عمل میں لایا جاچکا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا الزام ہے کہ دمشق مسلح باغی گروپوں کو الیپو سے ادلب کی طرف روانہ کررہا ہے۔
اس صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ مستقبل میں عسکریت پسند گروپوں کا قلع قمع کرنے کے عزم کو بروکار لاتے ہوئے ادلب پر بڑا حملہ کیا جاسکتا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ ادلب میں اس کی نگرانی کرنے والی چوکیوں پر گزشتہ مہینے سے دوبار حملے ہوچکے ہیں جن میں بے شمار لوگ ہلاک و زخمی ہوگئے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ترکی کا خاموش رہنا ممکن نہیں ہے، ہمیں جلد مثبت فیصلوں کا اعلان کرنا ہوگا۔ بہرحال شام کا بحران المیوں میں تبدیل ہوگیا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ عرب ممالک ، ایران اور ترکی بھی شام کے بحران کو حل کرنے میں سنجیدہ کوششیںنہیں کررہے ، ان ممالک کی پالیسیوں کی وجہ سے شام کے بحران میں امریکا اور روس اپنی پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ نقصان شامی عوام کا ہورہا ہے۔