معاشی بحران اور حکومتی اقدامات
خام مال مہنگا ہو رہا ہے تو دوسری جانب زرعی شعبہ بھی روزبروز تنزلی کی جانب گامزن ہے
خام مال مہنگا ہو رہا ہے تو دوسری جانب زرعی شعبہ بھی روزبروز تنزلی کی جانب گامزن ہے (فوٹو: فائل)
حکومت ملکی معاشی بحران کے حوالے سے درپیش بہت سے چیلنجنگ ٹارگٹس سے نبردآزمائی میں دو پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، اول غیرملکی قرضوں کا حصول اور دوم ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا۔ معاشی تجزیہ نگاروں کے محصولات کے ہدف پر تنقیدی جائزوں اور اعتراضات کے جواب میں حکومت کا مؤقف ہے کہ عوام کو کنفیوژ کرنے کے بجائے متبادل معاشی پلان سامنے لایا جائے مگر تجزیاتی حلقوں کی جانب سے تابڑتوڑ تنقیدی حملے تو جاری ہیں مگر وہ کوئی بھی ایسا ٹھوس اور خوشنما معاشی حل پیش کرنے سے معذور ہیں جس سے حکومت ملکی معاشی بحران سے نکلنے میں سرخرو ہو سکے۔
ملکی معاشی حالات اس نہج پر آ پہنچے ہیں کہ ابھی تک ڈیفالٹ ہونے کے خطرات کی باتیں ہورہی ہیں۔ بے پناہ قرض درقرض کے حصول نے توازن ادائیگی کو حکومت کے کنٹرول سے باہر کر دیا ہے مگر ایک بار پھر ان خطرات سے نمٹنے کا آخری اور واحد سہارا غیرملکی قرضوں ہی میں تلاش کیا گیا ہے۔ سابق حکومتوں نے ملکی معاشی بحران کا حل ملکی اور غیرملکی قرضوں کے حصول کے علاوہ ملکی اداروں کی نجکاری میں تلاش کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران اپنے ذمے 10.4 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اورڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالرکا ہنگامی قرضہ (کرائسس ریسپانس لون) مانگ لیا ہے ۔
یہ قرضہ بینک کی ''اسپیشل پالیسی بیسڈ لینڈنگ ''(SPBL)کے تحت مانگا گیا ہے۔ ایشیائی بینک اس پالیسی کے تحت قرضہ رکن ملکوں کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے دیتا ہے۔ایس پی بی ایل کے تحت قرضہ پانچ سے آٹھ سال کے لیے تقریباً 2 فیصد شرح سود پر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس قرضے کی منظوری ایشیائی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز دے گا جس کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے طے پانے والے 6 ارب ڈالر قرضہ کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات کتنے عرصے میں ایشیائی بینک کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف میں چھ ارب ڈالر قرضہ کا معاہدہ گیارہ مئی کواسٹاف لیول سطح کے مذاکرات میں ہوا تھا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اکتوبرکے آخری یا نومبر کے پہلے ہفتہ میں پاکستان کے لیے اس ہنگامی قرضے کی منظوری دے گا۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2017ء میں پاکستان کی خراب میکرو اکنامک صورت حال دیکھ کر اس کی بجٹری سپورٹ بند کردی تھی مگر ایشیائی ترقیاتی بینک سے اس سال اگست میں پاکستان کے لیے بجٹری سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے 80 کروڑ ڈالرز میں سے 50 کروڑ ڈالر قرضہ کی منظوری کا امکان ہے ۔ ادھر وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 3.4ارب ڈالر کا قرض بھی ملے گا اس میں سے 2.1ارب ڈالر اسی سال مل جائیں گے۔
انھوں نے آئی ایم ایف پروگرام پر تنقید کرنے اور آیندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دینے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے پر شرح سود مارکیٹ سے بہت کم ہے ۔ عوام آئی ایم ایف کے خلاف منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں جن کو اس پروگرام سے مسئلہ ہے وہ متبادل معاشی پلان پیش کریں۔ انھوں نے کہا ہم دیگر ملکوں کے ساتھ بزنس نہیں کرنا چاہتے،اگر ترقی کرنی ہے تو اپنی مصنوعات دوسروں کو بیچنا ہوں گی۔ اگر 2900ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی مد میں دینے ہیں تو کہاں سے دیں گے۔ جب موجودہ حکومت آئی قرضہ 31 ہزار ارب روپے تھا اوربیرونی قرضے کا حجم 97 ارب ڈالر تھا، تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، سود کی مد میں 2000 ارب روپے خرچ ہو رہے تھے، مالیاتی خسارہ 2300 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ انھوں نے کہا اگر 2900 ارب روپے سود کی مد میں دینے ہیں تو وہ کہاں سے دیں گے۔
وفاقی حکومت نے ایف بی آر کو کرپشن، لوٹ مار کے ذریعے غیر قانونی دولت، غیر ملکی کرنسی، بیئرر سیکیورٹی اور سونے، جواہرات ذخیرہ کرنے والے کرپٹ عناصر کے گھروں سمیت کسی بھی جگہ پر چھاپے مارنے اور غیرقانونی دولت قبضے میں لینے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں نیا قانون لایا جا رہا ہے۔ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی ضرور کی جانی چاہیے لیکن اس عمل میں دھونس اور دھمکی کے منفی ہتھکنڈے سے گریز کرتے ہوئے چادر اور چاردیواری کے تقدس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ ماضی میں ایسی خبریں بھی منظرعام پر آئیں کہ مالیاتی یا احتساب کے اداروں کی جانب سے سخت رویہ اختیار کرنے کے باعث کچھ افراد زندگی کی بازی ہار بیٹھے یا بعض نے خودکشی کو ترجیح دی۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے بنی گالا میں پارٹی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے، معیشت مستحکم ہو گئی اور 24 ہزار ارب ڈالر کے قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن جلد تشکیل دے دیا جائے گا۔ ادھر وزیراعظم خوشخبری سنا رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا لیکن ادھر ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ مانگا جا رہا ہے۔
پریشان کن امر یہ ہے کہ عوام کو کون کنفیوژ کر رہا ہے، حکمران یا معاشی تجزیہ نگار۔ اگر پاکستان نے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تو اسے صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کے علاوہ سستی بجلی بھی فراہم کرنا ہو گی۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ناصرف بجلی مہنگی کی جا رہی ہے بلکہ وقفے وقفے سے پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے سے ہر چیز مہنگی ہونے سے صنعتی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں صنعت کار کیسے سستا اور معیاری مال تیار کر کے غیرملکی منڈیوں میں مسابقت کے دوڑ میں شریک ہو سکتا ہے۔
ایک جانب خام مال مہنگا ہو رہا ہے تو دوسری جانب زرعی شعبہ بھی روزبروز تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ زرعی مداخل مہنگی ہونے سے کاشت کار کھیتی باڑی چھوڑ کر دیگر شعبوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایک جانب حکومت ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے غیرملکی قرضوں پر قرضے لے رہی ہے تو دوسری جانب روپے کی قدر کم ہونے سے معاشی مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں حکومت صنعتی شعبے کو کیسے ترقی دے کر تجارتی خسارے پر قابو پا سکتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو معاشی تجزیہ نگار حکمرانوں سے پوچھ رہے ہیں مگر وہ سنہرے خواب دکھا کر یہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے۔ معلوم نہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے یا مزید ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے؟
ملکی معاشی حالات اس نہج پر آ پہنچے ہیں کہ ابھی تک ڈیفالٹ ہونے کے خطرات کی باتیں ہورہی ہیں۔ بے پناہ قرض درقرض کے حصول نے توازن ادائیگی کو حکومت کے کنٹرول سے باہر کر دیا ہے مگر ایک بار پھر ان خطرات سے نمٹنے کا آخری اور واحد سہارا غیرملکی قرضوں ہی میں تلاش کیا گیا ہے۔ سابق حکومتوں نے ملکی معاشی بحران کا حل ملکی اور غیرملکی قرضوں کے حصول کے علاوہ ملکی اداروں کی نجکاری میں تلاش کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران اپنے ذمے 10.4 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اورڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالرکا ہنگامی قرضہ (کرائسس ریسپانس لون) مانگ لیا ہے ۔
یہ قرضہ بینک کی ''اسپیشل پالیسی بیسڈ لینڈنگ ''(SPBL)کے تحت مانگا گیا ہے۔ ایشیائی بینک اس پالیسی کے تحت قرضہ رکن ملکوں کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے دیتا ہے۔ایس پی بی ایل کے تحت قرضہ پانچ سے آٹھ سال کے لیے تقریباً 2 فیصد شرح سود پر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس قرضے کی منظوری ایشیائی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز دے گا جس کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے طے پانے والے 6 ارب ڈالر قرضہ کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات کتنے عرصے میں ایشیائی بینک کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف میں چھ ارب ڈالر قرضہ کا معاہدہ گیارہ مئی کواسٹاف لیول سطح کے مذاکرات میں ہوا تھا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اکتوبرکے آخری یا نومبر کے پہلے ہفتہ میں پاکستان کے لیے اس ہنگامی قرضے کی منظوری دے گا۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2017ء میں پاکستان کی خراب میکرو اکنامک صورت حال دیکھ کر اس کی بجٹری سپورٹ بند کردی تھی مگر ایشیائی ترقیاتی بینک سے اس سال اگست میں پاکستان کے لیے بجٹری سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے 80 کروڑ ڈالرز میں سے 50 کروڑ ڈالر قرضہ کی منظوری کا امکان ہے ۔ ادھر وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 3.4ارب ڈالر کا قرض بھی ملے گا اس میں سے 2.1ارب ڈالر اسی سال مل جائیں گے۔
انھوں نے آئی ایم ایف پروگرام پر تنقید کرنے اور آیندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دینے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے پر شرح سود مارکیٹ سے بہت کم ہے ۔ عوام آئی ایم ایف کے خلاف منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں جن کو اس پروگرام سے مسئلہ ہے وہ متبادل معاشی پلان پیش کریں۔ انھوں نے کہا ہم دیگر ملکوں کے ساتھ بزنس نہیں کرنا چاہتے،اگر ترقی کرنی ہے تو اپنی مصنوعات دوسروں کو بیچنا ہوں گی۔ اگر 2900ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی مد میں دینے ہیں تو کہاں سے دیں گے۔ جب موجودہ حکومت آئی قرضہ 31 ہزار ارب روپے تھا اوربیرونی قرضے کا حجم 97 ارب ڈالر تھا، تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، سود کی مد میں 2000 ارب روپے خرچ ہو رہے تھے، مالیاتی خسارہ 2300 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ انھوں نے کہا اگر 2900 ارب روپے سود کی مد میں دینے ہیں تو وہ کہاں سے دیں گے۔
وفاقی حکومت نے ایف بی آر کو کرپشن، لوٹ مار کے ذریعے غیر قانونی دولت، غیر ملکی کرنسی، بیئرر سیکیورٹی اور سونے، جواہرات ذخیرہ کرنے والے کرپٹ عناصر کے گھروں سمیت کسی بھی جگہ پر چھاپے مارنے اور غیرقانونی دولت قبضے میں لینے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں نیا قانون لایا جا رہا ہے۔ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی ضرور کی جانی چاہیے لیکن اس عمل میں دھونس اور دھمکی کے منفی ہتھکنڈے سے گریز کرتے ہوئے چادر اور چاردیواری کے تقدس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ ماضی میں ایسی خبریں بھی منظرعام پر آئیں کہ مالیاتی یا احتساب کے اداروں کی جانب سے سخت رویہ اختیار کرنے کے باعث کچھ افراد زندگی کی بازی ہار بیٹھے یا بعض نے خودکشی کو ترجیح دی۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے بنی گالا میں پارٹی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے، معیشت مستحکم ہو گئی اور 24 ہزار ارب ڈالر کے قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن جلد تشکیل دے دیا جائے گا۔ ادھر وزیراعظم خوشخبری سنا رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا لیکن ادھر ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ مانگا جا رہا ہے۔
پریشان کن امر یہ ہے کہ عوام کو کون کنفیوژ کر رہا ہے، حکمران یا معاشی تجزیہ نگار۔ اگر پاکستان نے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تو اسے صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کے علاوہ سستی بجلی بھی فراہم کرنا ہو گی۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ناصرف بجلی مہنگی کی جا رہی ہے بلکہ وقفے وقفے سے پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے سے ہر چیز مہنگی ہونے سے صنعتی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں صنعت کار کیسے سستا اور معیاری مال تیار کر کے غیرملکی منڈیوں میں مسابقت کے دوڑ میں شریک ہو سکتا ہے۔
ایک جانب خام مال مہنگا ہو رہا ہے تو دوسری جانب زرعی شعبہ بھی روزبروز تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ زرعی مداخل مہنگی ہونے سے کاشت کار کھیتی باڑی چھوڑ کر دیگر شعبوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایک جانب حکومت ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے غیرملکی قرضوں پر قرضے لے رہی ہے تو دوسری جانب روپے کی قدر کم ہونے سے معاشی مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں حکومت صنعتی شعبے کو کیسے ترقی دے کر تجارتی خسارے پر قابو پا سکتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو معاشی تجزیہ نگار حکمرانوں سے پوچھ رہے ہیں مگر وہ سنہرے خواب دکھا کر یہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے۔ معلوم نہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے نکل آیا ہے یا مزید ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے؟