ملکی معیشت کا چشم کشا منظرنامہ

حقیقت معاشی اصطلاح میں حکومت کے لیے ایک ’’ٹائٹ روپ واکنگ اور ڈانسنگ ود دا وولف‘‘ کے مترادف ہے۔

حقیقت معاشی اصطلاح میں حکومت کے لیے ایک ’’ٹائٹ روپ واکنگ اور ڈانسنگ ود دا وولف‘‘ کے مترادف ہے۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت بلاشبہ قیاسات اورامکانات کے ایک محور سے نکل کر دوسرے برمودا ٹرائنگل میں داخل ہونے کے دلچسپ دورانیے میں ہے، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ایک گروپ تصویر میں نظر آرہے ہیں جس میں ورلڈ بینک کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط ہورہے ہیں، خبر بھی ٹیکس اصلاحات اور ہائر ایجوکیشن کے فروغ سے متعلق ہے۔

اطلاع ہے کہ عالمی بینک پاکستان کو 91 کروڑ80 لاکھ ڈالر قرضہ دیگا، 40کروڑ ڈالر ریونیو بڑھانے کے پروگرام کے لیے جس میں ٹیکس بیس بڑھائی جا رہی ہے اور باقی 40 کروڑ ڈالر اعلیٰ تعلیم کی ترقی پر خرچ ہونگے۔

عوامی شعور اس پیش رفت پر معترض نہیں ہوگا کیونکہ حکمران اور ملکی معیشت کے استحکام، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے گرینڈ معاشی پلان کا بنیادی مقصد ایک فلاحی معاشرہ کا اجتماعی قیام ہے جس کی تشکیل ریاست مدینہ کے ابتدائی نقوش پر کی جا رہی ہے، یہ ٹاسک انتھک بھی ہے اور ملکی معیشت کو اس کے استحصالی ،فرسودہ،کرپٹ اور ٹریکل ڈاؤن ثمرات کے بے فیض ہونے کے الزام سے بچانے کی صائب کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

حقیقت معاشی اصطلاح میں حکومت کے لیے ایک ''ٹائٹ روپ واکنگ اور ڈانسنگ ود دا وولف'' کے مترادف ہے۔ ایک عام فہم منظرنامہ تو یہ ہے کہ حکومت کو جو معیشت ملی وہ ورثہ میں قرضوں کا بوجھ دے گئی ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پچھلی دو حکومتوں نے سسٹم ناکارہ کردیا، حکومت جوکچھ ادھر ادھر سے مانگ کر لارہی ہے وہ سب سود اور اربوں ڈالر کے پر پیچ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر دباؤ کثیر جہتی ہے، سیاسی، معاشی، تزویراتی، خارجی اورا سٹرٹیجیکل و سفارتی ، وہ چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں، حکومت اس دباؤ سے نکلنے کے لیے بھی ہرکولین ٹاسک کے طور پراپنے معاشی رفقا سے کام لینے کے جتن کررہی ہے۔

اپوزیشن کو ادراک کرنا چاہیے کہ پی ٹی آئی حکومت کچھ کر رہی ہے تو معاملہ نویں مہینے تک پہنچا ہے،معاشی ریسکیو کی کاوششیں جاری ہیں، حکومتی سطح پر کوئی کام نہ ہوتا تو معاشی دیوالیہ پن سے کون روکنے والا تھا، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی حقائق کو سارے اسٹیک ہولڈر تسلیم کریں، معاشی استحکام سب کے مفاد میں ہے۔


اس میں کسی پوائنٹ اسکورنگ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، یہ قومی بقا اور عوام کی زندگی سے جڑے ہوئے بنیادی ریاستی اور حکومتی میکنزم کی وہ سچائیاں ہیں جن میں حکومت اور اپوزیشن کے لیے سیاست کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ معیشت کو مرکزیت کے دھارے میں لانے کی قومی ذمے داری کو چیلنج سمجھ کر قبول کرنا ہوگا۔

مسائل بے پناہ ہیں، روز سوالات اٹھتے ہیں، اگلے دن ایمنسٹی اسکیم پر کالا دھن رکھنے والوں کا مایوس کن ردعمل حکومتی معاشی ماہرین کے لیے ایک نئی افتاد بنا ، تاہم وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے یقین ظاہر کیا ہے کہ آیندہ ہفتہ سے ایمنسٹی اسکیم پر لوگوں کا رد عمل بہتر ہوجائے گا،درحقیقت حکومتی مسیحا اس قومی ایڈ ایج پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ دنیا امید پر قائم ہے لیکن معاشی ماہرین کی ایک قسم انتہائی بے رحمانہ نظام طلب ورسد ، نفع اندوزی کے مجرمانہ رجحانات اور دولت کے سفاکانہ ارتکاز کے محور سے کبھی نہیں ہٹتی، اکثر اوقات معیشت دان بھی شاعروں کے طرز بیان کی خوشہ چینی کرتے ہوئے اقتصادیات کی سیاسی جعل سازی کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ

مرے محبوب نے وعدہ کیا ہے پانچویں دن کا

کسی سے سن لیا ہوگا کہ دنیا چار دن کی ہے

ادھر حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت نے یہ فیصلہ بنیادی طور پر ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے کیا ہے تاہم پٹرولیم ڈویژن نے اشرافیہ کے لیے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جو سب سے زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں۔ عوام کو نئی حکومت سے کئی شکایات ہیں، مہنگائی بس سے باہر ہوگئی ہے، بجلی ،گیس، ٹرانسپورٹ اور تعلیم کے بنیادی اخراجات ، صحت کے علاج معالجہ کے لیے سہولتوں کی فراہمی اہم ذمے داری ہے۔

عمران خان سے عوام کی توقعات بھی ماؤنٹ ایورسٹ سے بلند تر ہیں، ہر ووٹر مسئلہ کا حل چاہتا ہے، بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ہونا ہے، حکومت ہوسکتا ہے کہ ترجیحات اور جمہوری ثمرات کی فراہمی کے سسٹم میں سست روی کا شکار ہورہی ہو،اسے سنبھلنے کا موقع عوام اور اس کے ووٹر ہی دیتے ہیں،اپوزیشن کو ملکی صورتحال کی ڈائنامکس کا ادراک ہے، حالات انتہا کی طرف نہ جائیں تو یہی صائب مشورہ ہے، ملک ایک فیصلہ کن انتخابی آزمائش سے نکل کر نئے معاشی، سماجی اور سیاسی حقائق سے ہمکنار ہوگیا ، امتحان کی گھڑی ہے، سیاسی قیادت اپوزیشن سے مل کر حالات کے دھارے کو کسی بھی وقت تبدیل کرسکتی ہے۔یہی تو زندہ قوم کا شیوہ ہے۔

کسی dooms day کا کوئی خطرہ نہیں، سیاست امکانات کا ہوشمندانہ کھیل ہے۔اور یاد رکھئے یہ ملک قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔تزئین گلشن سب کا کام ہے۔
Load Next Story