شام میں کارروائی نہ کی تو مزید کیمیائی حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا اوباما
کارروائی 60 دن تک محدود ہونی چاہیے، امریکی سینیٹ کمیٹی، بھرپور دفاع کرینگے خواہ تیسری عالمی۔۔۔، شامی نائب وزیر خارجہ
طاقت کے بجائے سیاسی راہیں تلاش کی جائیں، ایران، شام کیخلاف فوجی کارروائی کا اختیار صرف سلامتی کونسل کے پاس ہے، بانکی مون، فوج کیمیائی ہتھیار دمشق سے منتقل کر رہی ہے، اپوزیشن۔ فوٹو : فائل
امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عالمی برادری خاموش نہیں رہ سکتی، اس کیمیائی حملے کا جواب نہ دینے سے مزید حملوں کا خدشہ بڑھ جائیگا اور دیگر ممالک بھی کیمیکل حملے کرسکتے ہیں۔
اسٹاک ہوم میں سویڈن کے وزیراعظم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اوباما نے مزید کہا کہ اگر شام پر حملہ کیا جاتا ہے تو عراق جنگ کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ روس شام میں فوجی کارروائی کے حوالے سے اپنی سمت تبدیل کرلے گا۔ واشنگٹن میں خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما شام میں بری فوج کو داخل نہیں کرنا چاہتے لیکن شام کیخلاف کارروائی اس لئے ضروری ہے' جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بھی جان کیری کی تائید کی۔
امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے شام کیخلاف فوجی کارروائی کو 60 دن تک محدود رکھنے کی تجویز دی ہے تاہم اس مدت میں ضرورت کے مطابق ایک ماہ کا اضافہ کیا جا سکے گا۔ اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے خواہ تیسری عالمی جنگ ہی کیوں نہ شروع ہوجائے، کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے بھرپور تیاری کررکھی ہے۔
اسٹاک ہوم میں سویڈن کے وزیراعظم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اوباما نے مزید کہا کہ اگر شام پر حملہ کیا جاتا ہے تو عراق جنگ کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ روس شام میں فوجی کارروائی کے حوالے سے اپنی سمت تبدیل کرلے گا۔ واشنگٹن میں خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما شام میں بری فوج کو داخل نہیں کرنا چاہتے لیکن شام کیخلاف کارروائی اس لئے ضروری ہے' جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بھی جان کیری کی تائید کی۔
امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے شام کیخلاف فوجی کارروائی کو 60 دن تک محدود رکھنے کی تجویز دی ہے تاہم اس مدت میں ضرورت کے مطابق ایک ماہ کا اضافہ کیا جا سکے گا۔ اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے خواہ تیسری عالمی جنگ ہی کیوں نہ شروع ہوجائے، کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے بھرپور تیاری کررکھی ہے۔