قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج
کوئی بھی شخص دستور کے تحت بیک وقت ایک سے زیادہ عہدے نہیں رکھ سکتا، پیٹیشنر
کوئی بھی شخص دستور کے تحت بیک وقت ایک سے زیادہ عہدے نہیں رکھ سکتا، پیٹیشنر۔ فوٹو: فائل
قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ میں دائر ایک آئینی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص دستور کے تحت بیک وقت ایک سے زیادہ عہدے نہیں رکھ سکتا، جبکہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جو اس وقت سپریم کورٹ کے سنئیر ترین جج بھی ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے رکن بھی ہیں۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی جائے کہ جب تک جسٹس تصدق حسین جیلانی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ان کے سامنے کوئی مقدمہ سماعت کے لیے نہ لگایا جائے۔
سپریم کورٹ میں دائر ایک آئینی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص دستور کے تحت بیک وقت ایک سے زیادہ عہدے نہیں رکھ سکتا، جبکہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جو اس وقت سپریم کورٹ کے سنئیر ترین جج بھی ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے رکن بھی ہیں۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی جائے کہ جب تک جسٹس تصدق حسین جیلانی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ان کے سامنے کوئی مقدمہ سماعت کے لیے نہ لگایا جائے۔