مصر مرسی کی حمایت میں پھر مظاہرے جھڑپوں میں 2 ہلاک درجنوں زخمی

اخوان المسلمون کا فوج کیخلاف ملک بھر میں احتجاج، ہلاکتیں اسکندریہ اور نیل ڈیلٹا میں جھڑپوں کے دوران ہوئیں۔

وزیرداخلہ پر بم حملے میں زخمی ایک شخص چل بسا، دہشتگردی سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائیگا، کابینہ، فوٹو: فائل/رائٹرز

KARACHI:
مصر میں فوج کی طرف سے معزول کیے گئے صدر محمد مرسی کی حمایت میں گزشتہ روز جمعے کو بھی ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

قاہرہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہزاروں افراد دارلحکومت کی سڑکوں پر نکل آئے۔ اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق قاہرہ کے علاقے معادی میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ مصر کی سرکاری خبر ایجنسی مینا کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں مظاہرین کی تعداد چند سو تھی۔ ان مظاہروں کی کال اخوان المسلمون اور اس کے حمایتی دینی گروپوں نے دی تھی۔ دیگر شہروں میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے کیے گئے جبکہ اسکندریہ اور نیل ڈیلٹا شہروں میں اخوان المسلمون کے مظاہرین اور اس کے مخالفین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں 2 افراد مارے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔




ادھر جمعرات کے دن وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے پر ہونیوالے بم دھماکا کا زخمی ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ دوسری طرف سابق صدر محمد مرسی نامعلوم مقام پر زیر حراست ہیں، حکومتی میڈیا کے مطابق محمد مرسی اور ان کے 14 رفقا پر لوگوں کو تشدد اور قتل پر اکسانے کے الزام میں کریمنل کورٹ میں مقدمہ کیا جائیگا تاہم حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملے کے بعد مصری کابینہ نے کہا ہے کہ کابینہ وزیر داخلہ محمد ابراہیم پر قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتی ہے اس قسم کی کارروائی سے حکومت کو دہشتگردی کیخلاف جنگ سے روکا نہیں جا سکتا۔

مصری ان لوگوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ لے گی جو قومی سلامتی خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہوں، حکومت ملک میں امن و امان کی بحالی کیلیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ دوسری طرف مصر کی عبوری حکومت نے اخوان المسلمون کی رجسٹرڈ این جی او کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سماجی استحکام کی وزارت کے ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں اگرچہ حکم جاری کر دیا گیا ہے تاہم اس کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔
Load Next Story