زائد المیعاد غذائیں کھانے والا انوکھا امریکی شہری
میری لینڈ کے ایک شخص نے خود پر یہ تجربہ کرکے بتایا ہے کہ کمپنیوں کو پیک غذاؤں کی میعاد پر دوبار غور کرنا ہوگا
امریکی ماہر اسکاٹ ناش نے خود ایک سال تک میعاد ختم ہونے کے بعد غذائیں استعمال کی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس پورے عمل کا دوبارہ جائزہ لیا جائے (فوٹو: فائل)
ایک امریکی شخص نے اسٹور سے خریدی گئی پیک شدہ خوراک کو میعاد (ایکسپائری ڈیٹ) گزر جانے کے بعد استعمال کیا اور اپنی کیفیات پر ایک بلاگ لکھا ہے۔
میری لینڈ کے شخص اسکاٹ ناش کو تین سال قبل اس عجیب وغریب تجربے کا خیال آیا۔ پہلے اس نے پیکنگ میں بند دہی کو اس کی مدت ختم ہونے کے 6 ماہ بعد کھایا۔ اگرچہ اس کا ذائقہ بدل چکا تھا لیکن پورا دہی کھانے کے بعد اسے کچھ نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ اسکاٹ خود بھی ایک ماحولیات داں ہیں اور ایک نامیاتی فوڈ اسٹور کمپنی کے مالک ہیں۔
اس کے بعد اسکاٹ کو خیال آیا کہ آخر 'ایکسپائر یا میاد ختم' ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اسی طرح ' اس تاریخ سے قبل بہترین یا بیسٹ بیفور یا سیل بائے وغیرہ کس کو ظاہر کرتے ہیں؟ اسکاٹ کے نزدیک یہ ہدایات پریشان کن اور مبہم ہیں۔
اسکاٹ ناش نے اپنے بلاگ میں لکھا ' میں سمجھتا ہوں کہ غذا اور غیر غذائی مصنوعات پر ایکسپائر تاریخ لکھنے کا رجحان تبدیل ہونا چاہیے، انہیں حقیقیت سے قریب ہونا چاہیے، بعض اشیا پر تاریخ لکھنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی جن میں نمک، شہد اور بچوں کے وائپس شامل ہیں۔'
خود پر کیے گئے تجربات میں اس نے ایک سال پرانی روٹیاں بھی کھائیں اور خود اپنے اہلِ خانہ کو بھی کھلائیں یہاں تک گوشت کی تاریخ گزرنے کے ایک ہفتے بعد، دہی کی ایکسپائری ڈیٹ ختم ہونے کے اسے چھ سے آٹھ ماہ بعد، کئی ماہ بعد کریم استعمال کی اور ایک مرتبہ ایسا مکھن کھایا جس پر پھپھوند آگئی تھی اور ان تجربات سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔
https://www.youtube.com/watch?time_continue=254&v=KKezo7zBnCw
اسکاٹ نے بتایا کہ بعض کھانے میعاد کے بعد اتنے خراب ہوجاتے ہیں کہ انہیں کوڑے دان کی نذر کرنا پڑتا ہے، اگر کھانے کی شکل، ذائقے اور بو میں کچھ فرق ہوجائے تو آپ اسے نہیں کھاتے لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بہترین کھانوں کو بھی میعاد ختم ہونے کے ایک روز بعد ہی تلف کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نمک خود کروڑوں سال پرانا ہوتا ہے اور اس کی ایکسپائر تاریخ کس طرح مرتب کی جاسکتی ہے؟ یہی حال ٹوتھ پیسٹ کا بھی ہے جس پر دو ماہ بعد خراب ہونے کی تاریخ لکھی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ بعض کمپنیاں چاہتی ہیں کہ لوگ تیزی سے ان کا کھانا تلف کریں تاکہ وہ اسٹور سے نئی غذائیں اور اشیا خریدسکیں اور ان کا منافع بڑھتا رہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے)، غذائی سائنس کے ماہرین اور خود سپراسٹور کے مالکان یہ کہتے آئے ہیں کہ ایکسپائرڈ ڈیٹ کو واضح ہونا چاہیے تاکہ غذا کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔
میری لینڈ کے شخص اسکاٹ ناش کو تین سال قبل اس عجیب وغریب تجربے کا خیال آیا۔ پہلے اس نے پیکنگ میں بند دہی کو اس کی مدت ختم ہونے کے 6 ماہ بعد کھایا۔ اگرچہ اس کا ذائقہ بدل چکا تھا لیکن پورا دہی کھانے کے بعد اسے کچھ نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ اسکاٹ خود بھی ایک ماحولیات داں ہیں اور ایک نامیاتی فوڈ اسٹور کمپنی کے مالک ہیں۔
اس کے بعد اسکاٹ کو خیال آیا کہ آخر 'ایکسپائر یا میاد ختم' ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اسی طرح ' اس تاریخ سے قبل بہترین یا بیسٹ بیفور یا سیل بائے وغیرہ کس کو ظاہر کرتے ہیں؟ اسکاٹ کے نزدیک یہ ہدایات پریشان کن اور مبہم ہیں۔
اسکاٹ ناش نے اپنے بلاگ میں لکھا ' میں سمجھتا ہوں کہ غذا اور غیر غذائی مصنوعات پر ایکسپائر تاریخ لکھنے کا رجحان تبدیل ہونا چاہیے، انہیں حقیقیت سے قریب ہونا چاہیے، بعض اشیا پر تاریخ لکھنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی جن میں نمک، شہد اور بچوں کے وائپس شامل ہیں۔'
خود پر کیے گئے تجربات میں اس نے ایک سال پرانی روٹیاں بھی کھائیں اور خود اپنے اہلِ خانہ کو بھی کھلائیں یہاں تک گوشت کی تاریخ گزرنے کے ایک ہفتے بعد، دہی کی ایکسپائری ڈیٹ ختم ہونے کے اسے چھ سے آٹھ ماہ بعد، کئی ماہ بعد کریم استعمال کی اور ایک مرتبہ ایسا مکھن کھایا جس پر پھپھوند آگئی تھی اور ان تجربات سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔
https://www.youtube.com/watch?time_continue=254&v=KKezo7zBnCw
اسکاٹ نے بتایا کہ بعض کھانے میعاد کے بعد اتنے خراب ہوجاتے ہیں کہ انہیں کوڑے دان کی نذر کرنا پڑتا ہے، اگر کھانے کی شکل، ذائقے اور بو میں کچھ فرق ہوجائے تو آپ اسے نہیں کھاتے لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بہترین کھانوں کو بھی میعاد ختم ہونے کے ایک روز بعد ہی تلف کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نمک خود کروڑوں سال پرانا ہوتا ہے اور اس کی ایکسپائر تاریخ کس طرح مرتب کی جاسکتی ہے؟ یہی حال ٹوتھ پیسٹ کا بھی ہے جس پر دو ماہ بعد خراب ہونے کی تاریخ لکھی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ بعض کمپنیاں چاہتی ہیں کہ لوگ تیزی سے ان کا کھانا تلف کریں تاکہ وہ اسٹور سے نئی غذائیں اور اشیا خریدسکیں اور ان کا منافع بڑھتا رہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے)، غذائی سائنس کے ماہرین اور خود سپراسٹور کے مالکان یہ کہتے آئے ہیں کہ ایکسپائرڈ ڈیٹ کو واضح ہونا چاہیے تاکہ غذا کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔