بجٹ منظور کروا کے حکومت نے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی فردوس عاشق
اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک لائی تو وہاں بھی پنجہ آزمائی کرکے انہیں ناکوں چنے چبوائیں گے، فردوس عاشق
صادق سنجرانی کےخلاف تحریک لانے سے پہلے اپوزیشن 10مرتبہ سوچے، فردوس عاشق: فوٹو: فائل
فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ بجٹ منظور کروا کے حکومت نے آج اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی۔
بجٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے بجٹ سیشن میں خوب پنجہ آزمائی کی اور بجٹ منظوری میں رکاوٹ بننے کے لیے تمام حربے آزمائے لیکن حکومت نے آئینی طریقے سے بجٹ منظور کروا کر اپنی برتری ثابت کردی اور اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملکی تاریخ کا طویل ترین بجٹ اجلاس تھا، جن لوگوں نے بجٹ منظور نہ ہونے کی دھمکیاں دی تھیں آج ان کی خواہشات ان کے سینے میں دفن ہوگئیں، اپوزیشن سے کہتی ہوں کہ بجٹ پر آپ نے جو سیاست کرنی تھی وہ ہوگئی لیکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک لانے سے قبل دس مرتبہ ضرور سوچیے گا کہیں اس تحریک کاانجام بھی بجِٹ کی طرح نہ ہو۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تمام اکائیوں کو تحفظ دینے کا نام سینیٹ آف پاکستان ہے، چیئرمین سینیٹ کے تحفظ کے لیے حکومت تمام آئینی اقدامات کرے گی، صادق سنجرانی پر حملہ وفاق پر حملہ تصور ہوگا، اگر اپوزیشن تحریک لائی تو اس کے خلاف آئینی طریقے سے پنجہ آزمائی کرکے وہاں بھی انہیں چنے چبوائیں گے۔
بجٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے بجٹ سیشن میں خوب پنجہ آزمائی کی اور بجٹ منظوری میں رکاوٹ بننے کے لیے تمام حربے آزمائے لیکن حکومت نے آئینی طریقے سے بجٹ منظور کروا کر اپنی برتری ثابت کردی اور اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملکی تاریخ کا طویل ترین بجٹ اجلاس تھا، جن لوگوں نے بجٹ منظور نہ ہونے کی دھمکیاں دی تھیں آج ان کی خواہشات ان کے سینے میں دفن ہوگئیں، اپوزیشن سے کہتی ہوں کہ بجٹ پر آپ نے جو سیاست کرنی تھی وہ ہوگئی لیکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک لانے سے قبل دس مرتبہ ضرور سوچیے گا کہیں اس تحریک کاانجام بھی بجِٹ کی طرح نہ ہو۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تمام اکائیوں کو تحفظ دینے کا نام سینیٹ آف پاکستان ہے، چیئرمین سینیٹ کے تحفظ کے لیے حکومت تمام آئینی اقدامات کرے گی، صادق سنجرانی پر حملہ وفاق پر حملہ تصور ہوگا، اگر اپوزیشن تحریک لائی تو اس کے خلاف آئینی طریقے سے پنجہ آزمائی کرکے وہاں بھی انہیں چنے چبوائیں گے۔