کراچی میں قیام امن‘ پاکستان کی ضرورت ہے

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہفتے کو جاتی امرا‘ رائے ونڈ لاہور میں اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس ہوا ہے...

کراچی میں قیام امن کے لیے صوبائی حکومت کی سنجیدہ کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہفتے کو جاتی امرا' رائے ونڈ لاہور میں اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس ہوا ہے۔ اس میں ملکی سلامتی' امن و امان کی مجموعی خصوصاً کراچی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا' اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے بھی مختلف نکات زیر غور آئے۔ اس اجلاس کی اہمیت کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ اس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، ڈی جی رینجرز، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، وزیراعظم کے مشیر خواجہ ظہیر، زاہد حامد اور سیکریٹری داخلہ شریک ہوئے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے ڈی جی رینجرز کی طرف سے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن پر دی جانے والی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ سیکیورٹی اداروں کو کراچی کا سکون اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ انھوں نے کراچی کے حوالے سے ہدایت کی کہ وہاں ٹارگٹڈ آپریشن کی پالیسی روزانہ تبدیل نہ کی جائے۔ کراچی کے عوام کی سیکیورٹی اداروں پر نظریں ہیں، سیکیورٹی اداروں کو کراچی کا سکون اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا، دیرپا امن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، مجرموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ وزیر اعظم کو وفاقی وزیر داخلہ نے غیر قانونی موبائل سمز سے پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال کے بارے میں بھی بریفنگ دی جس پر وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام غیرقانونی موبائل سمز فوری بند کی جائیں۔ ذرایع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اعلیٰ عدلیہ کی گائیڈ لائن کے مطابق انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا یہ اجلاس دور رس اثرات کا حامل ثابت ہو گا۔ اس اجلاس میں انتہائی اہمیت کے حامل معاملات زیر بحث آئے ہیں' وزیراعظم کے خطاب میں بھی ان معاملات کی ہی جھلک نظر آتی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ترجیحات میں کراچی میں امن کا قیام اول نمبر پر نظر آتا ہے۔ گزشتہ دنوں وہ اور ان کی کابینہ کراچی میں تھے' وہاں کراچی میں قیام امن کے حوالے سے ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ کچھ اور بھی معاملات زیر بحث آئے' اب لاہور میں بھی اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کی اور یہاں بھی کراچی میں امن کے قیام کو اولین ترجیح حاصل رہی۔ اب اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے کہ وزیراعظم نواز شریف ہر صورت میں کراچی میں امن چاہتے ہیں۔ اس معاملے میں حکومت نے رینجرز کو جو اختیارات دیے ہیں' وہ ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا مداخلت نہیں چاہتے۔ انھوں نے ڈی جی رینجرز کی بریفنگ پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم سندھ حکومت کے ساتھ بھی پوری طرح تعاون کرنا چاہتے ہیں۔


کراچی میں جو بدامنی جاری ہے اس کی ایک وجہ نہیں ہے۔ یہاں لسانیت کی بنیاد پر قتل و غارت کرنے والے بھی موجود ہیں' فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کے خواہشمند بھی متحرک ہیں۔ طالبان فیکٹر بھی موجود ہے۔ بلوچستان میں برسرپیکار گروپ بھی یہاں اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ انھی میں جرائم مافیا بھی سرگرم عمل ہیں۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں' وہ بھی بدامنی بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ یوں کراچی کے شہریوں پر مختلف گروہ حملہ آور ہیں۔ اس کے اثرات پورے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ دہشت گردی ایسا ناسور ہے جس نے کراچی ہی نہیں پورے ملک کا سکون چھین رکھا ہے۔ غیر رجسٹرڈ موبائل سمیں بند کرنے کا حکم خوش آیند ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا اس پر عمل ہو سکے گا۔ سابق دور حکومت میں بھی غیر رجسٹرڈ سمیں بند کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ چند دن اخبارات میں شور برپا رہا لیکن پھر معاملات جوں کے توں چلنا شروع ہو گئے۔ پاکستان میں دہشت گردی نہ رکنے کا ایک سبب حکومتی نا اہلی اور سستی بھی ہے۔

وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی معاملات پر چپقلش شروع ہو جاتی ہے۔ سابق دور حکومت میں مرکز میں پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں برسر اقتدار تھیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اتحادی تھیں جب کہ خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پارٹی اتحادی تھیں۔ بلوچستان میں بظاہر پیپلز پارٹی کی حکومت تھی مگر حقیقت میں وہاں سرداروں کا ارینجمنٹ تھا' اس قسم کی صورت حال میں کسی پالیسی کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہوتا ۔ اب بھی ماضی سے ملتی جلتی صورت حال ہے۔ مرکز میں مسلم لیگ ن برسراقتدار ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کر رہی ہے جو مسلم لیگ ن کی سخت مخالف ہے۔ بلوچستان میں ن لیگ نے قوم پرستوں کو اقتدار سنبھالنے میں معاونت کی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے۔ کراچی میں قیام امن کے لیے صوبائی حکومت کی سنجیدہ کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لیے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کو ایک سوچ اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ ایم کیو ایم کراچی کی ایک اہم سیاسی قوت ہے۔ کراچی میں قیام امن کے لیے ایم کیو ایم کی قیادت کو اعتماد میں لیا جانا بھی انتہائی اہم ہے۔ جب مرکزی حکومت' سندھ کی صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم ایک نقطے پر متحد ہو جائیں گی تو اس کے بعد باری سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں کی آتی ہے۔ رینجرز ہوں یا پولیس یا ضلعی انتظامیہ' یہ اس وقت تک متحرک کردار ادا نہیں کرسکتیں جب تک سیاسی حکمرانوں کا قبلہ درست نہیں ہوتا۔ رینجرز اپنے طور پر جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے' کارروائی کر رہے ہیں لیکن کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کامیابی سے ہمکنار اسی وقت ہو گا جب اس شہر کو سیاسی اسٹیک ہولڈر اپنے گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے کے لیے متحد نہیں ہو جاتے۔ کراچی میں امن قائم ہونے سے پورے پاکستان پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ کراچی میں امن کا قیام پاکستان کی ضرورت ہے۔ حکومت نے جو عمل شروع کیا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بھی کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ طالبان سے مذاکرات کی بات ہو یا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا مسئلہ' ان معاملات کو طے کرنے کے لیے ملک کی بڑی سیاسی قوتوں کو روایتی سیاسی سوچ ترک کرنی ہو گی۔ انھیں اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ دہشت گرد اور فرقہ پرست تنظیموں نے طاقت سیاسی قوتوں کی کمزوری کے باعث ہی پکڑی ہے۔ اگر مسلم لیگ ن' پیپلز پارٹی' ایم کیو ایم اور اے این پی جیسی ماڈریٹ سیاسی جماعتیں مصلحتوں اور عصبیتوں کا شکار نہ ہوتیں تو دہشت گرد اور فرقہ پرست عناصر کبھی کامیاب نہ ہوتے۔
Load Next Story