افغان طالبان کی رہائی
افغانستان کے ساتھ مفاہمت پیدا کرنے کی خاطر اور طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں سہولت پیدا کرنے کے لیے۔۔۔
ملا منصور کو 2008ء میں ایف سی نے صوبہ بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ سے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔ فوٹو: فائل
افغانستان کے ساتھ مفاہمت پیدا کرنے کی خاطر اور طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں سہولت پیدا کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے مزید 7 طالبان کو رہا کر دیا ہے۔ ان رہا ہونے والوں میں ملا منصور داد اللہ کا نام بھی شامل ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق ان طالبان کو افغان مفاہمتی عمل میں مزید مدد دینے کے لیے رہا کیا گیا۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ برس 26 طالبان کو رہا کیا تھا۔ ہفتے کو رہا ہونے والوں میں سید ولی' عبدالمنان' کریم آغا' شیر افضل' گل محمد اور محمد زئی شامل ہیں۔ یہ افغان طالبان سینئر کمانڈر بتائے گئے ہیں جن کا عسکریت پسند گروپوں پر گہرا اثر ہے۔ ملا منصور داد اللہ' ملا داد اللہ اخوند کا بھائی ہے جسے برطانوی افواج نے ہلمند کے علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ ملا منصور کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کو پاکستان میں گرفتاری سے قبل ملا عمر نے طالبان کے حلقے سے خارج کر دیا تھا۔
ملا منصور کو 2008ء میں ایف سی نے صوبہ بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ سے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔ رہا کیے جانے والے طالبان کا کابل میں خاصی سرد مہری سے استقبال کیا گیا اخبارات میں ان کی رہائی کی خبروں کو مدھم رکھا گیا تاہم افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے افغان طالبان کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ترجمان نے کہا کہ مزید اہم طالبان کی رہائی بھی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ طالبان قیدیوں کی رہائی افغان صدر حامد کرزئی کے حالیہ دورۂ پاکستان کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ حامد کرزئی پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے تھے لیکن انھوں نے مذاکرات کی اہمیت کے پیش نظر اپنا قیام مزید ایک روز کے لیے بڑھا دیا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق صدر حامد کرزئی کے دورے کا بنیادی مقصد طالبان کے سیکنڈ ان کمان ملا عبدالغنی برادر کی رہائی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ملا عبدالغنی برادر 2010ء سے حراست میں ہے' کہا جاتا ہے ان کے کرزئی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ افغان طالبان کی رہائی کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے جو مسائل ہیں وہ بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ ملا منصور داد اللہ کی رہائی ایک اہم پیشرفت ہے۔ اب افغانستان کی حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان میں دراندازی کو روکے۔ افغانستان میں بعض ایسے کردار موجود ہیں جو پاکستان کو مطلوب ہیں۔ ان میں مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی بھی شامل ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان کے لوگوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا چاہیے اور انھیں حکومت پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے تا کہ خیر سگالی کا دو طرفہ عمل شروع ہو سکے۔ جہاں تک افغانستان میں قیام امن کا تعلق ہے' پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا بھی حامی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان جاری بدامنی ختم ہو اور وہاں حقیقی معنوں میں امن قائم ہو سکے۔ اب افغانستان کی حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے پاکستان میں بدامنی کو ہوا ملے۔
ملا منصور کو 2008ء میں ایف سی نے صوبہ بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ سے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔ رہا کیے جانے والے طالبان کا کابل میں خاصی سرد مہری سے استقبال کیا گیا اخبارات میں ان کی رہائی کی خبروں کو مدھم رکھا گیا تاہم افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے افغان طالبان کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ترجمان نے کہا کہ مزید اہم طالبان کی رہائی بھی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ طالبان قیدیوں کی رہائی افغان صدر حامد کرزئی کے حالیہ دورۂ پاکستان کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ حامد کرزئی پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے تھے لیکن انھوں نے مذاکرات کی اہمیت کے پیش نظر اپنا قیام مزید ایک روز کے لیے بڑھا دیا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق صدر حامد کرزئی کے دورے کا بنیادی مقصد طالبان کے سیکنڈ ان کمان ملا عبدالغنی برادر کی رہائی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ملا عبدالغنی برادر 2010ء سے حراست میں ہے' کہا جاتا ہے ان کے کرزئی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ افغان طالبان کی رہائی کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے جو مسائل ہیں وہ بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ ملا منصور داد اللہ کی رہائی ایک اہم پیشرفت ہے۔ اب افغانستان کی حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان میں دراندازی کو روکے۔ افغانستان میں بعض ایسے کردار موجود ہیں جو پاکستان کو مطلوب ہیں۔ ان میں مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی بھی شامل ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان کے لوگوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا چاہیے اور انھیں حکومت پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے تا کہ خیر سگالی کا دو طرفہ عمل شروع ہو سکے۔ جہاں تک افغانستان میں قیام امن کا تعلق ہے' پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا بھی حامی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان جاری بدامنی ختم ہو اور وہاں حقیقی معنوں میں امن قائم ہو سکے۔ اب افغانستان کی حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے پاکستان میں بدامنی کو ہوا ملے۔