ٹرانسپورٹرز کا انٹر سٹی بسوں کے کرائے میں اضافے کا فیصلہ
آئندہ اجلاس میں کرایوں کا نرخ نامہ طے کیا جائے گا
اجلاس میں انٹرسٹی لانگ روٹ کی بسوں اور کوچز کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ فوٹو فائل
HYDERABAD:
سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے پر انٹرسٹی بسوں کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ٹرک ٹرالر کے کرایوں کا فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔
اجلاس کیپٹن (ر) آصف محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک محمد ریاض، الحاج خان دل خان نیازی، حنیف مروت، بشیر حلیمی، عبدالرؤف نیازی،ممتاز اعوان، اسلم خان نیازی اور شفیق کاکڑ، عبداللہ آسکانی، اسماعیل حسنی، کریم پنجگوری، حمید شاہین عمرانی نے شرکت کی.
اجلاس میں شرکا نے کہا کہ ہم نے عوام کے بہتر مفاد میں انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور 3 ماہ تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت کرتے رہے لیکن اب حکومت کی جانب سے مسلسل تیسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، انکم ٹیکس میں اضافے، بس کوچز کا فی سیٹ ٹیکس 100 روپے سے بڑھا کر 700 روپے کرنے اور ٹریفک چالان جرمانوں کی مد میں اضافے کے بعد ہمیں کرایوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔
اجلاس میں انٹرسٹی لانگ روٹ کی بسوں اور کوچز کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا، آئندہ اجلاس میں کرایوں کا نرخ نامہ طے کیا جائے گا، گڈز ٹرک ٹرالرز کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ بھی آئندہ اجلاس میں ہی کیا جائے گا،اجلاس میں اسلم خان نیازی کی سربراہی میں7 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ٹرانسپورٹ تنظیموں سے رابطے کر کے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کی حکمت عملی بنائے گی.
ٹرانسپورٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور انکم ٹیکس کی مد میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے، ٹرانسپورٹروں کو لوٹ مار،ڈکیتیوں اور بھتہ خوری سے نجات دلائی جائے، حکومت سندھ کی جانب سے ٹریفک چالان جرمانوں میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے اور جلی ہوئی گاڑیوں کا معاوضہ ادا کیا جائے، بصورت دیگر ٹرانسپورٹرز ملک گیر احتجاج کریں گے۔
سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے پر انٹرسٹی بسوں کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ٹرک ٹرالر کے کرایوں کا فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔
اجلاس کیپٹن (ر) آصف محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک محمد ریاض، الحاج خان دل خان نیازی، حنیف مروت، بشیر حلیمی، عبدالرؤف نیازی،ممتاز اعوان، اسلم خان نیازی اور شفیق کاکڑ، عبداللہ آسکانی، اسماعیل حسنی، کریم پنجگوری، حمید شاہین عمرانی نے شرکت کی.
اجلاس میں شرکا نے کہا کہ ہم نے عوام کے بہتر مفاد میں انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور 3 ماہ تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت کرتے رہے لیکن اب حکومت کی جانب سے مسلسل تیسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، انکم ٹیکس میں اضافے، بس کوچز کا فی سیٹ ٹیکس 100 روپے سے بڑھا کر 700 روپے کرنے اور ٹریفک چالان جرمانوں کی مد میں اضافے کے بعد ہمیں کرایوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔
اجلاس میں انٹرسٹی لانگ روٹ کی بسوں اور کوچز کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا، آئندہ اجلاس میں کرایوں کا نرخ نامہ طے کیا جائے گا، گڈز ٹرک ٹرالرز کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ بھی آئندہ اجلاس میں ہی کیا جائے گا،اجلاس میں اسلم خان نیازی کی سربراہی میں7 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ٹرانسپورٹ تنظیموں سے رابطے کر کے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کی حکمت عملی بنائے گی.
ٹرانسپورٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور انکم ٹیکس کی مد میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے، ٹرانسپورٹروں کو لوٹ مار،ڈکیتیوں اور بھتہ خوری سے نجات دلائی جائے، حکومت سندھ کی جانب سے ٹریفک چالان جرمانوں میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے اور جلی ہوئی گاڑیوں کا معاوضہ ادا کیا جائے، بصورت دیگر ٹرانسپورٹرز ملک گیر احتجاج کریں گے۔