اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام نوجوان کے قتل پر ہنگامے پھوٹ پڑے

قتل کیخلاف سیاہ فام کمیونٹی کے احتجاج کے دوران ایمبولینس، گاڑیوں اور ٹائروں کو نذر آتش کردیا گیا

پولیس افسر نے اپنے دفاع میں سیاہ فام لڑکے کو گولی ماری۔ پولیس فوٹو : ٹویٹر

اسرائیل میں ایک پولیس اہلکار نے غیر مسلح سیاہ فام لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کردیا جس کے بعد شہر بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور پولیس کو متعلقہ افسر کو گھر میں نظر بند کرنا پڑا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل میں سیاہ فام نوجوان پولیس افسر کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا جس کے بعد سڑکوں پر احتجاج شروع ہوگیا، پولیس نے مظاہرے کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی تو شہر بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔




نوجوان کی ہلاکت پر پولیس کا موقف تھا کہ ڈیوٹی پولیس افسر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کھیل کے میدان میں موجود تھے جب 2 افراد ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے، پولیس افسر نے اپنا تعارف کراکر جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی تو سلمان تیکاہ نامی لڑکے نے تعاون کے بجائے پولیس افسر پر پتھر برسائے۔

پولیس افسر نے اپنے دفاع میں مشتعل نوجوان پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں نوجوان زخمی ہوگیا جسے اسپتال منتقل کیا گیا تاہم نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا جس پر سیاہ فام کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی اور ایمبولینس، کاروں، عمارتوں اور ٹائڑوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

احتجاجی مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب پولیس نے متعلقہ پولیس افسر کو حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا تھا تاہم پُر تشدد واقعات کے بعد پولیس افسر کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔
Load Next Story