دوسرا ٹیسٹپاکستان کی نظریں مصباح الحق پرمرکوز جیت کیلئےمزید 106رنزدرکار

چھوتے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 158 رنز اسکور کئے۔

کپتان مصباح الحق 26 اور وکٹ کیپرعدنان اکمل 17 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔فوٹو؛ اے ایف پی

LONDON:

پاکستان کو زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے آخری روز جیت کے لئے مزید 106 رنز درکار ہیں جبکہ اسکی5 وکٹیں ابھی باقی ہیں، پاکستان کی تمام تر نظریں کپتان مصباح الحق پر مرکوز ہیں جو اس وقت 26 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔


زمبابوے کے ہرارے اسپورٹس کلب میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے میزبان زمبابوے کے جیت کے لئے دیئے گئے 264 رنز کے جواب میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 158 رنز اسکور کئے ، کپتان مصباح الحق 26 اور وکٹ کیپرعدنان اکمل 17 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ پاکستان کی جانب سے پہلی اننگ کے ٹاپ اسکورر یونس خان دوسری اننگ میں صرف 29 رنز بنا سکے جبکہ خرم منظور نے دوسری اننگ میں بھی شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 54 رنز اسکور کئے۔ اسد شفیق اورمحمد حفیظ ایک بار پھر ناکام رہے اور دونوں کھلاڑیوں نے بالترتیب اور 14 اور 16 اسکور کئے جبکہ اظہر علی اپنا کھاتا کھولے بغیر ہی پویلین لوٹ گئے۔


اس سے قبل زمبابوے کی ٹیم نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 121 رنز سے اپنی دوسری ادھوری اننگز کا 185 رنز کی برتری کے ساتھ آغاز کیا تو زمبابوے کے بلے باز کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اور اسکور کے مجموعہ میں صرف 78 رنز کا اضافہ کرسکے اور تمام کھلاڑی صرف 199 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئے۔ اس طرح زمبابوے نے پاکستان کو جیت کیلئے 264 رنز کا ہدف دیا۔



زمبابوے کی دوسری بیٹنگ کے دوران پاکستان کے راحت علی نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ سعید اجمل اور عبدالرحمن نے 2، 2 اور جنید خان نے ایک بلے باز کو پویلین کی راہ دکھائی۔


اس سے قبل کھیل کے تیسرے روز پاکستان نے 3 وکٹ کے نقصان پر 163 رنز سے اپنی پہلی ادھوری اننگز کا آغاز کیا تو پوری ٹیم 230 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ اننگ کے دوران پاکستان کوآغاز پر ہی محمد حفیظ کی جدائی کا دکھ جھیلنا پڑا،ان کی ٹیسٹ میچز میں ناقص فارم کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے، اس بار انھوں نے سنبھل کر کھیلنے کی کوشش کی مگر 22 رنز پر برائن ویٹوری کی گیند پر فرسٹ سلپ میں ہیملٹن مساکیڈزا کوکیچ دے بیٹھے، یہ ان کا رواں برس 5 ٹیسٹ میچز میں سب سے بڑا اسکور ہے، مجموعہ62 تک پہنچا تو اظہر علی بھی پویلین واپس لوٹ گئے، انھیں تناشے پانیان گرا نے صرف 7 رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا، اس موقع پر خرم منظور کو یونس خان نے جوائن کیا اور دونوں نے مل کر اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا، تین برس بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آنے والے خرم منظور چند کاٹ بی ہائنڈ اور ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیلز کے باوجود محفوظ رہے۔

انھوں نے بہترین ٹائمنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 چوکوں کی مدد سے چوتھی ففٹی مکمل کی، اوپنر نے اس کیلیے 119 بالز کا سامنا کیا، 51 کے انفرادی اسکور پر وہ بدقسمتی کا شکار ہوئے جب لیگ سائیڈ کی جانب شاٹ کھیل کر رن لینے کیلیے دوڑ پڑے، یونس خان نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انھیں واپس لوٹنے کا اشارہ کیا مگر وہ ایلٹن چگمبرا کی تھرو سے نہ بچ پائے اور رن آؤٹ ہوگئے۔ یونس خان نے پہلے ٹیسٹ میچ کی طرح شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 77 رنز بنائے۔
Load Next Story