8افراد کے قتل میں ملوث سیاسی جماعت کے کارکن کی گرفتاری ظاہر

اعجاز گورچانی کو6ستمبر کو حراست میں لیا گیاتھا۔

ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ 2006 میں گذری تھانے کی حدود پنجاب چورنگی کے قریب سی آئی ڈی کے پولیس افسر چوہدری محمد اسلم کے قافلے پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ فوٹو: فائل

سی آئی ڈی پولیس نے پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹر سمیت8افراد کے قتل میں ملوث سیاسی جماعت کے کارکن کی گرفتاری ظاہر کر دی۔

ملزم کو ایک ہفتے قبل رینجرز نے حراست میں لیا تھا، تفصیلات کے مطابق سی آئی ڈی انویسٹی گیشن سول لائن نے پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹر سمیت 8افراد کے مبینہ قتل میں ملوث ملزم اعجاز گورچانی کی سائٹ غنی چورنگی سے گرفتاری ظاہر کر کے اس کے قبضے سے ایک کلاشنکوف ، ایک ٹی ٹی پستول اور2دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم اعجاز گورچانی اور اسکے ساتھیوں نے2006 میں گذری تھانے کی حدود پنجاب چورنگی کے قریب سی آئی ڈی کے پولیس افسر چوہدری محمد اسلم کے قافلے پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔


جس میں ان کا پرانا ساتھی اے ایس آئی عارف اور کانسٹیبل ندیم جاں بحق جبکہ کانسٹیبل ملک طاہر زخمی ہو گیا تھا جبکہ چوہدری محمد اسلم بال بال بچ گئے تھے ، سی آئی ڈی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ملزم اعجاز گورچانی نے ابتدائی تفتیش کے دوران ایک ڈاکٹر سمیت 8افراد کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے ، ملزم کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے ، گرفتار ملزم کورنگی نمبر4کلو چوک کے قریب کا رہائشی ہے۔



علاقہ مکینوں کے مطابق گرفتار ملزم اعجاز گورچانی کو رینجرز نے6ستمبر کو جب وہ گھر کے قریب واقعے مسجد سے نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اپنے گھر گیا تو گھات لگائے بیٹھے رینجرز کے اہلکاروں نے گھر میں گھس کر اسے حراست میں لے کر آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا ، ملزم اعجاز کو حراست میں لیتے ہوئے علاقے کے سیکڑوں لوگوں نے دیکھا تھا، اس وقت اس کے پاس کسی قسم کا اسلحہ یا دستی بم موجود نہیں تھا،رینجرز نے اسی روز کالے منے کو بھی اسی مسجد سے اپنے گھر جاتے ہوئے اس کا تعاقب کر کے حراست میں لے لیا تھا، کالے منے کی گرفتاری اگلے روز ظاہر کر دی گئی تھی تاہم اعجاز گورچانی کی گرفتاری صیغہ راز میں رکھی گئی تھی جو جمعرات کو سی آئی ڈی انویسٹی گیشن پولیس نے سائٹ بی تھانے کی حدود غنی چورنگی سے ظاہر کی۔
Load Next Story