پی سی بی کو بھارت کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں شعیب اختر

روابط کی بحالی کیلیے منت سماجت کے بجائے قومی ٹیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں، شعیب اختر

روابط کی بحالی کیلیے منت سماجت کے بجائے قومی ٹیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں، شعیب اختر فوٹو: فائل

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو بھارت کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں، پڑوسی ملک سے کرکٹ روابط کی بحالی کیلیے منت سماجت کرنے کے بجائے قومی ٹیم کو مضبوط کرنے پر توجہ دینا مناسب ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سیاسی کشیدگی کا نزلہ کھیلوں پر گرانے کی بھارتی روایت نے پاکستانیوں کی اکثریت کے ساتھ شعیب اختر کو بھی تلخ باتوں پر مجبور کردیا، سابق فاسٹ بولر کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کا ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ کیلیے فیصل آباد وولفز کو ویزے جاری نہ کرنا حیران کن نہیں، جب تک دونوں ممالک کے حکومتی سطح پر تعلقات نارمل اور دوستانہ نہیں ہوتے، ہم بھارتی بورڈ سے اچھی توقعات وابستہ نہیں کرسکتے۔

انھوں نے کہا کہ میرا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ کرکٹ تعلقات کی بحالی کیلیے پی سی بی کو بھارت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے، آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو مدعو کرنے کا معاملہ ہو یا چیمپئنز لیگ میں شرکت، کرکٹ کے حوالے سے ہمیں بھیک نہیں مانگنی چاہیے۔




شعیب اختر نے کہا کہ ہمیں فیصل آباد وولفز کی ایونٹ میں شمولیت کے حوالے سے توقعات وابستہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، دعوت پر بھی شکریہ کے ساتھ معذرت کرنا درست ہوتا، نہ جانے ہم بھارت سے بات کرتے وقت بحیثیت قوم اور بورڈ اپنی عزت نفس کا خیال کب رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ چند ہزار ڈالرز کا نقصان کوئی بڑی بات نہیں، ہمیں اپنی کرکٹ بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہیے، ہم یہ وقت اپنی ٹیم کو مضبوط اور ڈومیسٹک ڈھانچہ مستحکم بنانے پر صرف کرسکتے ہیں۔

گرین شرٹس کی کارکردگی ورلڈ کلاس ہوگی تو ہر کوئی ہمارے ساتھ ہماری شرائط کے مطابق کھیلنا پسند کریگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کا معیار نیچے چلا گیا، اس کی وجہ عمران خان جیسا کپتان اور رول ماڈل نہ ہونا ہے، دوسری طرف مہندرا سنگھ دھونی نے اپنی شاندار قیادت سے بھارتی کرکٹ کو نئی زندگی دیدی۔
Load Next Story