امریکا اپنے شہریوں کی خفیہ معلومات اسرائیل کو دیتا رہا برطانوی اخبار
سیکرٹ ڈیل میں اسرائیل کوڈیٹا فراہمی کی کوئی قانونی حد نہیں، اسنوڈن کی معلومات پراخبار گارڈین کا انکشاف
صرف سرکاری حکام کی خفیہ معلومات محفوظ رکھی گئیں، معاہدہ 2009 میں طے پایا، امریکی حکام کا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ فائل: فوٹو
ایک برطانوی اخبار''گارڈین'' نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے شہریوں کی معلومات باقاعدگی سے اسرائیل کوفراہم کیں جبکہ جرمن میگزین ''درسپیگل'' نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں اسی بات کا انکشاف کیا ہے۔
گارڈین اخبار کا کہنا ہے کہ این ایس اے گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی کالز کی نگرانی کرتی رہی ہے۔ امریکا کی طرف سے یہ معلومات اسرائیلی نیشنل یونٹ کو مہیا کی جاتی تھیں، سیکرٹ ڈیل میں اسرائیل کو ڈیٹا کی فراہمی کی کوئی قانونی حد نہیں، امریکی شہریوں کی یہ معلومات بغیرچھانٹی کے اسرائیل کو فراہم کی جاتی رہیں۔
اخبار نے یہ دعویٰ سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی فراہم کردہ معلومات کے حوالے سے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور این ایس اے کے درمیان یہ معاہدہ 2009 میں طے پایا جس کے تحت ایجنسی اوباما انتظامیہ کی منظوری کے بعد خفیہ معلومات اسرائیل کودیتی ہے۔ صرف امریکی سرکاری حکام کی خفیہ معلومات محفوظ رکھی گئی ہیں، امریکی حکام کی طرف سے ان خبروں پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
گارڈین اخبار کا کہنا ہے کہ این ایس اے گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی کالز کی نگرانی کرتی رہی ہے۔ امریکا کی طرف سے یہ معلومات اسرائیلی نیشنل یونٹ کو مہیا کی جاتی تھیں، سیکرٹ ڈیل میں اسرائیل کو ڈیٹا کی فراہمی کی کوئی قانونی حد نہیں، امریکی شہریوں کی یہ معلومات بغیرچھانٹی کے اسرائیل کو فراہم کی جاتی رہیں۔
اخبار نے یہ دعویٰ سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی فراہم کردہ معلومات کے حوالے سے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور این ایس اے کے درمیان یہ معاہدہ 2009 میں طے پایا جس کے تحت ایجنسی اوباما انتظامیہ کی منظوری کے بعد خفیہ معلومات اسرائیل کودیتی ہے۔ صرف امریکی سرکاری حکام کی خفیہ معلومات محفوظ رکھی گئی ہیں، امریکی حکام کی طرف سے ان خبروں پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔