پاکستان کی معیشت ہائی رسک پر ہے آئی ایم ایف ٹیکس میں اضافے کا مشورہ
ادائیگیوںمیں توازن نہیں،آئندہ سال معاشی ترقی توقع سے زیادہ بدترہوسکتی ہے،نئی توانائی پالیسی عمل میں لاناخوش آئند ہے
معاشی استحکام کیلیے صوبوں کووفاق کے ہم قدم ہونا پڑیگا، مہنگائی کنٹرول کیلیے خودمختار مانیٹری پالیسی ضروری ہے،بیان فوٹو: فائل
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگلے سال پاکستان کی معاشی ترقی 6.7 ارب ڈالر کے قرضہ پیکیج کے باوجود سخت سادگی کے اقدامات کے باعث توقع سے زیادہ بدتر ہوسکتی ہے۔
ایک ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے واشنگٹن سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے پاکستان معاشی بحران سے دوچار ہے اور معیشت ہائی رسک پر ہے جبکہ ادائیگیوں میں توازن نہیں ، اس کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے معیشت کی بہتری کیلیے اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مالی خسارہ 4.7 فیصد تک محدود کرنا تھا لیکن یہ 8 فیصد رہا ، حکومت ٹیکسوں کی وصولیوں میں ناکام رہی، بجلی بحران اور ناقص سیکیورٹی کی صورتحال نے معیشت کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نئی توانائی پالیسی عمل میں لانا خوش آئند ہے، ٹیکس چھوٹ کم کرکے وصولی بہتر بنائی جاسکتی ہے اور جو شعبے ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں ان پر ٹیکس لگایا جائے، معاشی استحکام کیلیے صوبوں کو وفاق کے ہم قدم ہونا پڑے گا، مہنگائی پر کنٹرول کیلیے خودمختار مانیٹری پالیسی ضروری ہے، پاکستان میں انکم سپورٹ کے ذریعے غریبوں تک پہنچنا بھی ایک اچھا قدم ہے۔ برطانوی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی کارکردگی ناقص رہی ہے ، ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ پاکستانی معیشت خطرات سے دوچار اور ہائی رسک پر ہے ۔
ایک ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے واشنگٹن سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے پاکستان معاشی بحران سے دوچار ہے اور معیشت ہائی رسک پر ہے جبکہ ادائیگیوں میں توازن نہیں ، اس کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے معیشت کی بہتری کیلیے اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مالی خسارہ 4.7 فیصد تک محدود کرنا تھا لیکن یہ 8 فیصد رہا ، حکومت ٹیکسوں کی وصولیوں میں ناکام رہی، بجلی بحران اور ناقص سیکیورٹی کی صورتحال نے معیشت کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نئی توانائی پالیسی عمل میں لانا خوش آئند ہے، ٹیکس چھوٹ کم کرکے وصولی بہتر بنائی جاسکتی ہے اور جو شعبے ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں ان پر ٹیکس لگایا جائے، معاشی استحکام کیلیے صوبوں کو وفاق کے ہم قدم ہونا پڑے گا، مہنگائی پر کنٹرول کیلیے خودمختار مانیٹری پالیسی ضروری ہے، پاکستان میں انکم سپورٹ کے ذریعے غریبوں تک پہنچنا بھی ایک اچھا قدم ہے۔ برطانوی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی کارکردگی ناقص رہی ہے ، ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ پاکستانی معیشت خطرات سے دوچار اور ہائی رسک پر ہے ۔