مسلسل کرکٹ، پاکستانی پلیئرز پرکام کا بوجھ بڑھنے لگا

سلیم خالق  ہفتہ 20 جولائ 2019
سال میں2لیگز والی پالیسی دم توڑ گئی (ذرائع)اب بھی عمل کیا جاتا ہے، پی سی بی
 فوٹو: فائل

سال میں2لیگز والی پالیسی دم توڑ گئی (ذرائع)اب بھی عمل کیا جاتا ہے، پی سی بی فوٹو: فائل

کراچی:  پاکستانی کرکٹرز پر کام کا بوجھ بڑھنے لگا آرام کے بجائے لیگز کو ترجیح دینے سے فٹنس مسائل کا خدشہ سامنے آگیا سال میں 2 لیگز والی پالیسی دم توڑ گئی البتہ بورڈ کے مطابق اب بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال پاکستانی ٹیم کیلیے مصروف ترین رہا، جنوبی افریقہ میں سیریز کے آخری2 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور 3 ٹی 20 میچزکے بعد یو اے ای میں آسٹریلیا سے 5 ایک روزہ میچز کی سیریز ہوئی، پھر انگلینڈ میں ورلڈکپ سے پہلے میزبان سے بھی 4 ون ڈے اورایک ٹی ٹوئنٹی ہوا، میگا ایونٹ کے8 میچز میں حصہ لیا، ہونا یہ چاہیے تھا کہ کھلاڑی اکتوبر میں سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل کچھ آرام کرتے مگر ان کی نگاہیں لیگز کھیل کر رقم کمانے پر مرکوز ہے۔

ان دنوں محمد عامر، بابر اعظم، فہیم اشرف اور فخر زمان ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کیلیے انگلینڈ میں مقیم ہیں، رواں ماہ کے اواخر میں شروع ہونے والی گلوبل ٹی ٹوئنٹی لیگ کینیڈا کیلیے بورڈ نے شعیب ملک، محمد حفیظ، وہاب ریاض اور شاداب خان کو این او سی دے دیا ہے، یہ تمام سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ ہیں، ان میں سے کئی کرکٹرز ماضی قریب میں انجری یا صحت کے حوالے سے کسی مسئلے کا شکار ہو چکے، جنوری، فروری میں منعقدہ بنگلہ دیش لیگ میں وہاب ریاض، شعیب ملک اور محمد حفیظ سمیت کئی پاکستانی کرکٹرز نے حصہ لیا تھا،پھر پی ایس ایل میں تمام ہی اسٹار کرکٹرز ایکشن میں نظر آئے، جمعے کو یورو ٹی ٹوئنٹی سلم کے ڈرافٹ میں بابر اعظم، محمد عامر، فخرزمان، شاہین شاہ آفریدی،حسن علی و دیگر کو مختلف ٹیموں میں شامل کیا گیا ہے۔

رواں برس پاکستانی ٹیم کو سری لنکا سے2 حصوں میں ٹیسٹ اور محدود اوورز کی سیریز کھیلنا ہوگی، دورئہ آسٹریلیا شیڈول کا حصہ ہے جبکہ کیریبیئن لیگ میں بھی پاکستان کے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں، کام کے اس بوجھ سے انجریز کا خطرہ بڑھ چکا۔ اس صورتحال میں ایک بات تو واضح ہے کہ سال میں  پی ایس ایل سمیت  2لیگز کی سابقہ پالیسی پر اب عمل نہیں ہو رہا، البتہ پی سی بی کے ترجمان اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے، انھوں نے کہا کہ سال میں2لیگزمیں شرکت کی پالیسی برقرار ہے، اس کے بعد اگر کوئی کھلاڑی کسی اور لیگ کیلیے درخواست کرے تو اس پر انفرادی طور پرغور کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ انگلش ایونٹ کو پی سی بی2لیگز میں شامل نہیں کرتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔