وفاقی وزیر کا ریلوے کی نجکاری نہ کرنیکا اعلان منافع بخش بنانے کا عزم

ریلوے کی زمین کو فروخت نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے استعمال میں لائیں گے، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق نے کہا کہ کسی بھی صورت ریلوے کی نجکاری نہیں کی جائے گی بلکہ ہم ریلوے کو پاکستان کا منافع بخش ترین ادارہ بنائیں گے. فوٹو: فائل

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پیپلزپارٹی کے دور میں ہونیوالے ڈیزل جنر یٹنگ سسٹم کا معاہدبے ضابطگیوں پر منسوخ اور ریلوے کی نجکاری نہ کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ریلوے کی زمین بھی فروخت نہیں کی جائے گی اور ہر صورت ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا۔

بزنس ٹرین کی انتظامیہ سے تمام واجبات وصول کیے جائیں گے اور واجبات کی عدم ادائیگی پر سخت کارروائی ہو گی' نئے ٹر یک بچھانے کیلیے غیر ملکی سر مایہ کاری کی ضرورت ہے، ماضی کی حکو مت نے بہت سے معاہدے چیک اینڈ بیلنس کے بغیر کیے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے ذمے داروں کو سخت سزادی جائیگی، مختلف روٹس پر سٹیم سفاری ٹر ینیں چلائی جا ئیںگی۔ وہ اتوار کے روز ریلوے ہیڈ کوارٹر ز میںپر یس کا نفر نس سے خطاب کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق نے کہا کہ کسی بھی صورت ریلوے کی نجکاری نہیں کی جائے گی بلکہ ہم ریلوے کو پاکستان کا منافع بخش ترین ادارہ بنائیں گے اور تمام فیصلے میرٹ کی بنیا د پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ راولپنڈی سے ٹیکسلا اور اٹک تک خصوصی سیاحتی ٹرین چلائی جائے گی اور میری پہلی ترجیح ریلوے سے کرپشن ختم کرنا ہے۔




انہوں نے کہا کہ ہم نے ریلوے کی زمینوں کو قابضین سے واگزار کروایا ہے اور ان زمینوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جو یقینی طور پر کروڑ وں روپے میں ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھا کہ ریلوے میں کسی بھی سطح پر کرپشن اور بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیاجائے گا اور ہم نے ڈیزل انجنوں کا کنٹریکٹ بھی بے ضابطگیوں کی وجہ سے کینسل کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ریلوے پاکستان کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے اس لیے ہم ریلوے کو ایک بار پھر پائوں پر کھڑ اکرکے اسے منافع بخش ادارہ بنائیں گے۔

ماضی میں ریلوے کی زمین کو فروخت کیا جاتا رہا لیکن اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریلوے کی زمین کو فروخت نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے استعمال میں لائیں گے جس سے یقینا ریلوے کو مالی طور پر مزید فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ٹرین کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور ان سے تمام بقایا جات وصول کیے جائیںگے اور اگر وہ بقایا جات کی ادائیگی نہیں کریں گے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Load Next Story