تاریخی عمارتوں کو اصل حالت میں لانا چاہتا ہوں محمود بھٹی

دسمبرمیں عالمی معیار کا فیشن شو منعقد کرکے فیشن انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کردونگا

سیاست میں آنے کا شوق نہیں ،پاکستان فلم انڈسٹری کوبالی ووڈ کی طرح ترقی کرناچاہیے،انٹرویو۔ فوٹو: فائل

پاکستانی نژاد فرانسیسی فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران تاریخی شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالامارباغ سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کو ان کی اصل شکل میں واپس لانے کی تجویزدی ہے جس کے لیے انھوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے۔

دسمبر میں پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے فیشن شو منعقد کرنے جارہا ہوں ، جس میں فرانس کے معرو ف ڈیزائنر، ہئیر اسٹائلسٹ، میک اپ آرٹسٹ اور ماڈلز حصہ لینگے۔ اس موقع پر باقاعدہ طور پر فیشن انڈسٹری کو خیرباد کہنے کا اعلان بھی کرونگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایکسپریس کو انٹرویو کے دوران کیا، محمود بھٹی نے کہا کہ شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالامار باغ سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کو ان کی اصل شکل میں واپس لانے کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے مجھے قابل ٹیم کی ضرورت ہے جو میرے آئیڈیاز کے مطابق کرینگی۔




مجھے حکومت سے کوئی عہدہ نہیں چاہیے اورنہ ہی سیاست سے کوئی دلچسپی ہے۔ میں پاکستان کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ میڈیکل کالج، نرسنگ اسکول کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی معیارکا فیشن اسکول لاہور میں بنانے کے منصوبوں پرجلد کام شروع کردیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ مجھے فرانس ہی نہیں دنیا بھرکی فیشن انڈسٹری میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جومیرے لیے ایک اعزاز ہے۔ فیشن انڈسٹری چھوڑ کر کچھ اور کرنا چاہتا ہوں، میڈیکل کالج، نرسنگ کالج، فیشن اسکول اورسمیت دیگر پراجیکٹس سے نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انھوں نے بتایا کہ میں 13 سال کی عمر میں ایک ماہ میو اسپتال میں زیرعلاج رہا، وہاں کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا تھا کہ جب بھی میرے پاس پیسہ آیا تو ایک ایسا اسپتال بناؤں گا جہاں لوگوں کا بہتر علاج کیا جا سکے۔

لاہور میں ایک اسپتال بناچکا ہوں بقیہ منصوبوں پربھی جلد کام شروع کردیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ میں بہت سے غیر ملکیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن لوگ دہشتگردی کی وجہ سے ہاں آنے سے خوفزدہ ہیں۔دسمبر میں فرانس سے پاکستان آنیوالے سرمایہ کار گروپ کو اپنی گارنٹی پرلاؤنگا۔ محمود بھٹی نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کوبھی بھارتی فلم انڈسٹری کی طرح ترقی کرنی چاہیے، میرااپنا فلمسازی کا کوئی ارادہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلم اسٹارریشم سے صرف اچھی دوستی ہے، شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔انھوں نے کہا کہ اکانومی کرائسسز پوری دنیا میں ہے۔ فرانس میں حجاب کا ایشو میڈیا نے اٹھایا تھا وہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ فیشن کی دنیا میں ننانوے فیصد یہودی ہیں جو میرے اچھے دوست ہیں۔ پاکستانی ہونے پر کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔
Load Next Story