پنجاب اسمبلی میں بھی نئے صوبوں کا کمیشن مسترد حکومتی اور اپوزیشن خواتین ارکان گتھم گتھا

کمیشن صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی روح کے برعکس اور وفاق کی سالمیت سے متصادم ہے، اپوزیشن کے شور شرابے میں قرارداد منظور

کمیشن صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی روح کے برعکس اور وفاق کی سالمیت سے متصادم ہے، قومی کمیشن بنایا جائے، اپوزیشن کے شور شرابے میں قرارداد منظور۔ فوٹو: فائل

پنجاب اسمبلی نے نئے صوبوں کے قیام کیلیے بنائے گئے کمیشن کو ملکی سالمیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کی قرارداد منظور کرلی ہے، اجلاس میں مسلسل تیسرے روز بھی بدترین ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، نعرے بازی، اسپیکر کے گھیرائو اور مارکٹائی کے بعد اجلاس غیرمعینہ مدت کیلیے ملتوی کردیا گیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے کمیشن کیلیے دو نام نہ دیے جانے پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کا گھیرائو کیا اور ریکارڈنگ اور مائیک سسٹم کو اکھاڑ دیا، کارروائی کے آغاز پر پیپلز پارٹی کے رکن احسان الحق نولاٹیا نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جناب اسپیکر آپ صوبوں کے قیام کیلیے دو نام تجویزکردیں، اگر آپ ایسا نہیں کرینگے تو ہم ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دینگے لیکن اسپیکر نے وقفہ سوالات کا آغازکر دیا جس پر پیپلزپارٹی اور (ق) لیگ کے ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہونا شروع ہوگئے۔

دوسری طرف سے حکومتی ارکان اور اسمبلی کی سیکیورٹی نے بھی اسپیکر کے گرد حفاظتی حصار قائم کرلیا۔ اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر ''جنوبی پنجاب زندہ باد، بہاولپور صوبہ زندہ باد، تخت لاہور مردہ باد، تخت لاہور ہائے ہائے، خادم اعلیٰ ڈنگی والا'' کے نعرے لگاتے رہے جبکہ حکومتی ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں اور اسمبلی اسٹاف کی طرف سے لیے جانے والے نوٹس پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیے۔ وقفہ سوالات کے بعد اسپیکر نے قانون سازی کا سلسلہ بھی جاری رکھا جس پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی، اسپیکر اور سیکریٹری اسمبلی کی طرف سے توجہ نہ دیے جانے پر بعض ارکان اپنی نشستوں پر چلے گئے اور نشستوں کے اوپرکھڑے ہوکر کورم کی نشاندہی کرتے رہے۔

اپوزیشن خواتین ارکان رانا ثناء اﷲ کے گرد جمع ہوگئیں اورکورم کی نشاندہی کی۔ اسی دوران حکومتی رکن سکینہ شاہین نے مسلم لیگ (ق)کی ماجدہ زیدی کو تھپڑ مار دیا اور ناخن لگنے سے ان کا چہرہ بری طرح زخمی ہوگیا جبکہ ان کی مدد کو پہنچنے والی ساجدہ میر اور سیمل کامران پر حکومتی رکن غزالہ رانا سمیت خواتین نے تھپڑوں کی بارش کردی، اس دھینگا مشتی میں سکینہ شاہین کا دوپٹہ ارکان کے ہجوم میں قدموں تلے روندا گیا اور وہ ننگے سر اپوزیشن خواتین کے ساتھ الجھتی رہیں، اپوزیشن اور حکومتی بینچوں سے دیگر خواتین بھی اس لڑائی میں کود پڑیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہوگئیں جبکہ مرد ارکان بیچ بچائو کراتے رہے۔


ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ وزیر قانون نے اسمبلی کے قواعد معطل کر کے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی جس پر اسپیکر نے اجازت دے دی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب کا یہ نمائندہ ایوان صوبوں کے قیام کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے16 اگست 2012 کو تشکیل دیے جانیوالے کمیشن کو مسترد کرتا ہے، ایوان کی رائے ہے کہ کمیشن صوبائی اسمبلی کی9مئی 2012ء کو پیش کی جانیوالی قرارداد کی روح اور مندرجات کے برعکس ہے اور ایوان اسے اسے وفاق پاکستان کی سالمیت کے متصادم سمجھتا ہے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اس کمیشن کو فی الفور ختم کیا جائے اور قومی اور صوبائی نمائندوں اور تمام اسٹیک ہولڈرزکے اتفاق رائے سے قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جس پر تمام صوبائی اور قومی نمائندوں کو اعتماد ہو۔

قراردادکی منظوری کے بعد (ن) لیگ کے ارکان نے جشن منایا اور بلند آواز میں نعرہ لگایا جبکہ اپوزیشن اس دوران لعنت لعنت کے نعرے لگاتی رہی۔ قبل ازیں اپوزیشن کے احسان الحق نولاٹیا نے کہا کہ ایوان میں (ن) لیگ نے صوبہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کی قرارداد پیش کی تھی جسے متفقہ طور پر منظورکیا گیا تھا، کمیشن کا قیام آئینی تقاضا نہیں تھا لیکن مسلم لیگ (ن)کی قیادت کے مطالبے پر کمیشن تشکیل دیا گیا جبکہ دو نام اسپیکر پنجاب اسمبلی نے دینے ہیں۔ بتایا جائے کہ قومی کمیشن اور پارلیمانی کمیشن کسے کہتے ہیں، ہمیں ہزارہ صوبے کے قیام پر بھی کوئی اعتراض نہیں، شوکت بسرا نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا ذاتی نہیں بلکہ چارکروڑ عوام کی زندگیوں کا معاملہ ہے، جنوبی پنجاب میں لوگ سسک سسک کر مر رہے ہیں اور بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

آپ کمیشن کیلیے دو نام دے دیں، ورنہ آپ کو ہماری لاشوں سے گزرکر اجلاس چلانا پڑے گا۔ جنوبی پنجاب کے غیور عوام اپنا حق لینا جانتے ہیں اور اپنے حق کیلیے بندوق بھی اٹھائیں گے، لاشیں گرانا پڑیں تو وہ بھی گرائیں گے۔ وزیر قانون نے پنجاب سروس ٹریبونل ترمیمی بل پیش کیا جو اسپیکر نے متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا پھر وزیر قانون نے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا بل بحث کیلیے پیش کیا جو شور وغل میں منظور کرلیا گیا۔

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن نے اسمبلی سیڑھیوں پر دھرنا دیکر احتجاج کیا اور نعرے لگاتے رہے، شوکت بسرا نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں میاں برادران کے گماشتوں اور وزیر بے قانون کی سربراہی میں سرکاری غنڈوں نے خواتین کیساتھ جو بدتمیزی کی وہ قابل مذمت ہے، چیف جسٹس اس بات کا ازخود نو ٹس لیں۔ اس قرارداد سے (ن) لیگ کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آگیا ہے۔ جنوبی پنجاب سے رائیونڈ تک لانگ مارچ کرینگے، آئندہ انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب ضرور صوبہ بنے گا۔

Recommended Stories

Load Next Story