سوناکشی کے ’خاندانی شفاخانہ‘ میں ’بادشاہ‘ کی انٹری
خواتین کے مضبوط مرکزی کردار والی فلموں کو ’وومن سینٹرک‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ سوناکشی سنہا کا سوال
مشہور پنجابی ریپر بادشاہ بھی اس فلم سے بڑے پردے پر اداکاری کا آغاز کررہے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
سوناکشی سنہا کی نئی مزاحیہ فلم ''خاندانی شفاخانہ'' 2 اگست کو ریلیز ہوگی جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر دار و مدار سوناکشی سنہا پر ہوگا جو اس فلم میں مرکزی کردار بھی ادا کررہی ہیں۔ مشہور بھارتی ریپر ''بادشاہ'' بھی اسی فلم میں پہلی بار بڑے پردے پر دکھائی دیں گے۔
فلم شائقین کو دبنگ، اکیرا اور نور جیسی کامیاب فلمیں دینے والی سوناکشی سنہا نے 'خاندانی شفا خانہ' کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی لڑکی کسی فلم میں مضبوط مرکزی کردار ادا کرتی ہے تو اس فلم پر ''وومن سینٹرک'' کا لیبل لگا دیا جاتا ہے جو بالکل غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں اپنی روایتی سوچ تبدیل کرنا ہوگی تاکہ ہالی ووڈ کی طرح بالی ووڈ میں بھی اداکارائیں فلموں میں مضبوط مرکزی کردار ادا کرسکیں۔
اس فلم میں وہ ایک پنجابی دوشیزہ کا کردار نباہ رہی ہیں جسے اپنے نانا سے ایک شفاخانہ (کلینک) ورثے میں ملا ہے جو مردانہ کمزوری کا علاج کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ خاندانی شفاخانہ چلانے میں اس لڑکی کو جن مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہی اس فلم کا موضوع بھی ہیں جنہیں کامیڈی کے انداز میں بڑے پردے پر پیش کیا گیا ہے۔
اسی فلم سے شلپی داس گپتا بھی بطور ڈائریکٹر اپنے کیریئر کا آغاز کررہی ہیں۔
فلم شائقین کو دبنگ، اکیرا اور نور جیسی کامیاب فلمیں دینے والی سوناکشی سنہا نے 'خاندانی شفا خانہ' کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی لڑکی کسی فلم میں مضبوط مرکزی کردار ادا کرتی ہے تو اس فلم پر ''وومن سینٹرک'' کا لیبل لگا دیا جاتا ہے جو بالکل غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں اپنی روایتی سوچ تبدیل کرنا ہوگی تاکہ ہالی ووڈ کی طرح بالی ووڈ میں بھی اداکارائیں فلموں میں مضبوط مرکزی کردار ادا کرسکیں۔
اس فلم میں وہ ایک پنجابی دوشیزہ کا کردار نباہ رہی ہیں جسے اپنے نانا سے ایک شفاخانہ (کلینک) ورثے میں ملا ہے جو مردانہ کمزوری کا علاج کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ خاندانی شفاخانہ چلانے میں اس لڑکی کو جن مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہی اس فلم کا موضوع بھی ہیں جنہیں کامیڈی کے انداز میں بڑے پردے پر پیش کیا گیا ہے۔
اسی فلم سے شلپی داس گپتا بھی بطور ڈائریکٹر اپنے کیریئر کا آغاز کررہی ہیں۔