بابری مسجد تنازع پر بھارتی سپریم کورٹ کا روزانہ سماعت کا فیصلہ

ثالثی پینل بابری مسجد کی ملکیت کیلیے سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے درمیان تصفیے میں ناکام ہو گیا تھا

شدت پسند ہندوؤں نے تاریخی بابری مسجد کو رام چندر کی جنم بھومی قرار دیکر شہید کردیا تھا۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کے تنازع پر ثالثی کمیٹی کی ناکامی کے بعد 6 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں بابری مسجد اور اس سے ملحقہ علاقے کی ملکیت کے لیے 3 فریقین کے درمیان تنازع کے حل کے لیے بنائی گئی ثالثی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، رپورٹ میں تینوں اراکین نے ثالثی کے کردار میں ناکامی کا اعتراف کیا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ثالثی پینل کے تنازع کے حل ڈھونڈنے میں ناکامی کے بعد چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بینچ 2.77 ایکڑ زمین کے تنازع کے لیے 14 فریقین کے اپیلوں کا جائزہ لے گی۔


بابری مسجد کی ملکیت کے لیے 3 فریقین سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے درمیان قانونی جنگ کئی برسوں سے جاری ہے، 2010 میں الہ آباد کورٹ نے زمین کو تین حصوں میں برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس فیصلے کیخلاف 14 فریقین میدان میں آگئے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : بابری مسجد شہادت کیس، ایل کے ایڈوانی سمیت ہندو رہنماؤں سے تفتیش ہوگی

سپریم کورٹ نے مذہبی اعتبار سے نہایت حساس تنازع کے عدالت سے باہر حل کے لیے 9 مارچ کو ثالثی پینل تشکیل دیا تھا جو 2 مرتبہ معیاد میں توسیع کے باوجود تنازع پر فریقین کے درمیان رضامندی کرانے میں ناکام رہا تھا۔ پینل کے سربراہ جسٹس خلیف اللہ اور اراکین میں رام شنکر اور ایڈوکیٹ سری رام شامل تھے۔

واضح رہے کہ جنونی ہندوؤں نے 1992 میں پانچ سو سال پرانی بابری مسجد کو اپنے بھگوان رام چندر کی جنم بھومی قرار دیتے ہوئے شہید کردیا تھا اور عارضی رام مندر قائم کرکے پوجا پاٹ شروع کردی تھی جسے سپریم کورٹ نے فیصلہ آنے تک محدود کردیا تھا۔ بی جے پی نے اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور حساس معاملے کو ہوا دی۔
Load Next Story