بھارتی فوج کی پراسرار سرگرمیوں سے مقبوضہ کشمیر میں خوف و ہراس پھیل گیا
فوجی نقل و حمل میں اضافہ، غیر ملکیوں کا انخلاء، سیاحوں اور یاتریوں کی واپسی بھارت کی کسی بڑی مہم کا حصہ ہوسکتی ہے
پہلی مرتبہ ہندو یاتریوں کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور سیاحوں کو انخلا پر مجبور کیا گیا۔ فوٹو : فائل
JOHANNESBURG:
مقبوضہ کشمیر میں اچانک بھارتی فوج کی تعداد میں اضافے، یاتریوں کی واپسی، سیاحوں کے جبری انخلاء، غیر ملکیوں کو علاقہ چھوڑنے اور طلبا کو کالج ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بڑھتی پراسرار سرگرمیوں کے باعث غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، وادی بھر میں خوف کی فضا قائم ہے اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو بوریا بستر باندھنے کی ہدایت جاری کردی ہیں۔
ناگفتہ بہ حالات کی غیر یقینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کے میئر بھی اس صورت حال پر حیران ہیں اور اپنی ہی ریاستی اور وفاقی حکومت کے اقدامات پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے بھی صورت حال کو بحرانی قرار دیا۔
مقبوضہ کشمیر میں اچانک بھارتی فوج کی تعداد میں اضافے، یاتریوں کی واپسی، سیاحوں کے جبری انخلاء، غیر ملکیوں کو علاقہ چھوڑنے اور طلبا کو کالج ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بڑھتی پراسرار سرگرمیوں کے باعث غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، وادی بھر میں خوف کی فضا قائم ہے اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو بوریا بستر باندھنے کی ہدایت جاری کردی ہیں۔
ناگفتہ بہ حالات کی غیر یقینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کے میئر بھی اس صورت حال پر حیران ہیں اور اپنی ہی ریاستی اور وفاقی حکومت کے اقدامات پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے بھی صورت حال کو بحرانی قرار دیا۔
What "on going situation" in Kashmir would require the army AND the Air Force to be put on alert? This isn't about 35A or delimitation. This sort of alert, if actually issued, would be about something very different. https://t.co/FTYG36F6aD
اس وضاحت طلب صورت حال پر بھارتی آئین 35-اے کو ختم کر کے کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کے چھینے جانے سے متعلق افواہیں بھی سوشل میڈیا پر گرم رہی ہیں اور یہ بھی کہ کشمیری عوام کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے ہی ایسی صورت حال پیدا کی جا رہی ہو تاہم گورنر نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ قانون 35-اے کو نہیں چھیڑا جائے گا۔
دوسری جانب ایک طبقے کا خیال ہے کہ مودی سرکار ہندو اکثریتی علاقے جموں کو علیحدہ ریاست جبکہ کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرانتظام خطہ قرار دینے کے در پر ہے اور اسی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے کرفیو کی سی کیفیت عائد کی گئی ہے تاہم ڈائریکٹر جنرل کشمیر پولیس دلباغ سنگھ نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر میں بڑی واقعے کے امکانات کی افواہیں زوروں پر ہیں گو حکومت ایسے کسی بھی معاملے کی تردید کرتی آئی ہے تاہم حکومتی سطح پر بعض اعلانات اور جنگی پیمانے کی فوجی نقل و حمل سے افواہوں کو مزید تقویت مل رہی ہے۔