سفاری پارک مقابلے کی تفتیش مکمل چالان جمع5ملزمان بے گناہ قرار
تفتیش کے دوران امتیاز ، سمیع اﷲ ، عبدالغفار ، محبت علی اور عبدالمالک کے خلاف شواہد نہیں ملے جس پران افراد کو رہا کردیا
دوران تفتیش ملزمان کے خلاف شواہد موصول نہیں ہوئے فوٹو : این این آئی/فائل
سفاری پارک خونی پولیس مقابلے کی تفتیش مکمل کرلی گئی ، 4 ملزمان کے خلاف مقدمے کا چالان جمع کرادیا گیا ۔
5ملزمان کو بے گناہ قرار دیکر مقدمے سے خارج کردیاہے، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو مقدمے کے تفتیشی افسر چوہدری عامر حمید نے سفاری پارک پولیس مقابلے کی تفتیش مکمل کرکے مقدمے میں ملوث راجن ، اﷲ ورایو ، عمران اور احمر کے خلاف چالان جانچ پڑتال کیلیے ڈسٹرکٹ ڈپٹی پبلک پراسیکوٹر شاہد محمود آرائیں کے دفتر میں جمع کرادیا ہے، چالان میں 4 ملزمان بریل شاہ ، راجہ پٹھان ، علی بھنگوار اور کاشف پولیس والے کے بھائی کو مفرور قرار دیا ہے۔
چالان میں کہا ہے کہ دوران تفتیش امتیاز ، سمیع اﷲ ، عبدالغفار ، محبت علی اور عبدالمالک کے خلاف شواہد موصول نہیں ہوئے تھے اور انھیں ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 169کے تحت بیگناہ قرار دیکر رہا کردیا ہے، چالان میں ملزمان ضامن شاہ ، امید علی اور میر بخش کو مقابلے کے دوران ہلاک قرار دیا ہے۔
زخمی ہونے والے 5 پولیس افسر و اہلکاروں کا گواہوں کی فہرست میں اندراج کیا ہے، استغاثہ کے مطابق تھانہ گلستان جوہر کے ایس ایچ او سلیم ملک کی غلط بیانی کی اطلاع پر تھانہ بہادرآباد دیگر نے سفاری پارک کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی میں ڈی ایس پی قاسم غوری کی سربراہی میں چھاپہ مارا تھا ۔
اس موقع پر ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی قاسم غوری ، اے ایس آئی محمد آصف ہلاک جبکہ انسپکٹر سلیم ، حیدر زیدی ، اے ایس آئی اسلم اور اظہر زخمی ہوگئے تھے ،پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزمان ہلاک ہوگئے تھے، پولیس نے 9ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کیا تھا ، ملزمان کے خلاف تھانہ گلستان جوہر میں مقدمہ درج ہے ۔
5ملزمان کو بے گناہ قرار دیکر مقدمے سے خارج کردیاہے، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو مقدمے کے تفتیشی افسر چوہدری عامر حمید نے سفاری پارک پولیس مقابلے کی تفتیش مکمل کرکے مقدمے میں ملوث راجن ، اﷲ ورایو ، عمران اور احمر کے خلاف چالان جانچ پڑتال کیلیے ڈسٹرکٹ ڈپٹی پبلک پراسیکوٹر شاہد محمود آرائیں کے دفتر میں جمع کرادیا ہے، چالان میں 4 ملزمان بریل شاہ ، راجہ پٹھان ، علی بھنگوار اور کاشف پولیس والے کے بھائی کو مفرور قرار دیا ہے۔
چالان میں کہا ہے کہ دوران تفتیش امتیاز ، سمیع اﷲ ، عبدالغفار ، محبت علی اور عبدالمالک کے خلاف شواہد موصول نہیں ہوئے تھے اور انھیں ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 169کے تحت بیگناہ قرار دیکر رہا کردیا ہے، چالان میں ملزمان ضامن شاہ ، امید علی اور میر بخش کو مقابلے کے دوران ہلاک قرار دیا ہے۔
زخمی ہونے والے 5 پولیس افسر و اہلکاروں کا گواہوں کی فہرست میں اندراج کیا ہے، استغاثہ کے مطابق تھانہ گلستان جوہر کے ایس ایچ او سلیم ملک کی غلط بیانی کی اطلاع پر تھانہ بہادرآباد دیگر نے سفاری پارک کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی میں ڈی ایس پی قاسم غوری کی سربراہی میں چھاپہ مارا تھا ۔
اس موقع پر ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی قاسم غوری ، اے ایس آئی محمد آصف ہلاک جبکہ انسپکٹر سلیم ، حیدر زیدی ، اے ایس آئی اسلم اور اظہر زخمی ہوگئے تھے ،پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزمان ہلاک ہوگئے تھے، پولیس نے 9ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کیا تھا ، ملزمان کے خلاف تھانہ گلستان جوہر میں مقدمہ درج ہے ۔