ایف بی آر کو سہ ماہی ٹیکس ہدف کیلیے 149 ارب درکار
گزشتہ 2 ماہ 17 روز میں 363 ارب کا ٹیکس جمع، 23.1 ارب روپے کے ریفنڈز جاری
ستمبر کی وصولیاں 127 فیصد اضافے سے 90 ارب تک پہنچ گئیں، عبوری اعداد و شمار۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے مقررہ 512ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے 13 روز میں 149ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کرنا ہوں گی۔
مالی سال کے پہلے 2 ماہ 17روز کے دوران ٹیکس وصولیاں 34.5فیصد اضافے سے 363 ارب روپے سے تجاوز کرگئیں، رواں ماہ کے پہلے 17 روز کے دوران ایف بی آر نے 127 فیصد اضافے سے 90.3 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں تاہم اس کے باوجود ایف بی آر کیلیے سہ ماہی ہدف حاصل کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ''ایکسپریس'' کو ایف بی آر سے دستیاب تازہ ترین عبوری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 2ماہ 17 روز میں ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 23.1ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کیے جانے والے 20.61 ارب روپے کے ریفنڈز سے 11.9 فیصد زیادہ ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق اس دوران انکم ٹیکس وصولیاں 44.1 فیصد کے اضافے سے 101.84ارب، سیلزٹیکس37.6 فیصد بڑھ کر197.1ارب، کسٹمزڈیوٹی 0.9فیصد کے اضافے سے 40.92 ارب اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں 50.3 فیصد بڑھ کر22.98ارب روپے تک پہنچ گئیں، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں انکم ٹیکس 70.67 ارب، سیلز ٹیکس 143.34ارب، کسٹمز ڈیوٹی 40.56 ارب اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں 15.28 ارب روپے رہیں تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق یکم سے 17 ستمبر تک 90.28ارب روپے کی مجموعی ٹیکس وصولیاں ہوئیں جن میں25.3ارب کا انکم ٹیکس، 49.42 ارب سیلز ٹیکس، 8.64 ارب کسٹمز ڈیوٹی اور 6.96 ارب کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت سے بالترتیب 53.5 فیصد 234.7 فیصد 11.6 فیصد اور 967.8فیصد زیادہ ہیں۔
مالی سال کے پہلے 2 ماہ 17روز کے دوران ٹیکس وصولیاں 34.5فیصد اضافے سے 363 ارب روپے سے تجاوز کرگئیں، رواں ماہ کے پہلے 17 روز کے دوران ایف بی آر نے 127 فیصد اضافے سے 90.3 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں تاہم اس کے باوجود ایف بی آر کیلیے سہ ماہی ہدف حاصل کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ''ایکسپریس'' کو ایف بی آر سے دستیاب تازہ ترین عبوری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 2ماہ 17 روز میں ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 23.1ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کیے جانے والے 20.61 ارب روپے کے ریفنڈز سے 11.9 فیصد زیادہ ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق اس دوران انکم ٹیکس وصولیاں 44.1 فیصد کے اضافے سے 101.84ارب، سیلزٹیکس37.6 فیصد بڑھ کر197.1ارب، کسٹمزڈیوٹی 0.9فیصد کے اضافے سے 40.92 ارب اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں 50.3 فیصد بڑھ کر22.98ارب روپے تک پہنچ گئیں، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں انکم ٹیکس 70.67 ارب، سیلز ٹیکس 143.34ارب، کسٹمز ڈیوٹی 40.56 ارب اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں 15.28 ارب روپے رہیں تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق یکم سے 17 ستمبر تک 90.28ارب روپے کی مجموعی ٹیکس وصولیاں ہوئیں جن میں25.3ارب کا انکم ٹیکس، 49.42 ارب سیلز ٹیکس، 8.64 ارب کسٹمز ڈیوٹی اور 6.96 ارب کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت سے بالترتیب 53.5 فیصد 234.7 فیصد 11.6 فیصد اور 967.8فیصد زیادہ ہیں۔