عراق میں فٹبال میچ تقریب میں خاتون کی نامناسب لباس میں پرفارمنس پر تنازع
مقدس شہر کربلا میں رقص و موسیقی سے لبریز تقریب میں فنکارہ کی غیر اسلامی لباس میں پرفرفارمنس پر احتجاج
کربلا جیسے مقدس شہر میں رقص و موسیقی کے تقریب سے دل آزاری ہوئی۔ شہری فوٹو : ٹویٹر
عراق میں ہونے والے ایک فٹبال میچ کی تقریب کے دوران کھلے بازو والا لباس پہنے وائلن نواز خاتون کی پرفارمنس پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی شہر کربلا میں عراق اور لبنان کے درمیان فٹ بال میچ ہوا جس میں عراق نے لبنان کی ٹیم کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے دی تاہم 27 برسوں بعد عراق کی سرزمین پر ہونے والا عالمی فٹبال میچ تنازع کا شکار ہوگیا۔
میچ سے قبل موسیقی اور رقص پر مشتمل رنگا رنگ افتتاحی تقریب بھی رکھی گئی تھی جس میں لبنان سے تعلق رکھنے والی وائلن بجانے والی فنکارہ نے بھی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے عراقی ترانے کی دھن بھی بجائی اور خوب داد سمیٹی تاہم اسلامی لباس نہ پہننے پر ان پر شدید تنقید بھی کی گئی اور پوری تقریب متنازع بن گئی۔
عراق میں مذہبی رجحان رکھنے والوں نے مقدس شہر کربلا میں رقص و موسیقی سے لبریز تقریب اور نامناسب لباس زیب تن کیے ہوئے لبنانی خاتون کی پرفارمنس پر شدید اعتراضات اُٹھائے اور ملکی فٹبال فیڈریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
واضح رہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے گزشتہ برس ہی عراق پر فٹ بال میچوں کی میزبانی پر خانہ جنگی کے باعث 1990 سے عائد پابندی ختم کردی ہے جس کے بعد عراقی سرزمین پر یہ پہلا عالمی فٹبال میچ تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی شہر کربلا میں عراق اور لبنان کے درمیان فٹ بال میچ ہوا جس میں عراق نے لبنان کی ٹیم کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے دی تاہم 27 برسوں بعد عراق کی سرزمین پر ہونے والا عالمی فٹبال میچ تنازع کا شکار ہوگیا۔
میچ سے قبل موسیقی اور رقص پر مشتمل رنگا رنگ افتتاحی تقریب بھی رکھی گئی تھی جس میں لبنان سے تعلق رکھنے والی وائلن بجانے والی فنکارہ نے بھی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے عراقی ترانے کی دھن بھی بجائی اور خوب داد سمیٹی تاہم اسلامی لباس نہ پہننے پر ان پر شدید تنقید بھی کی گئی اور پوری تقریب متنازع بن گئی۔
عراق میں مذہبی رجحان رکھنے والوں نے مقدس شہر کربلا میں رقص و موسیقی سے لبریز تقریب اور نامناسب لباس زیب تن کیے ہوئے لبنانی خاتون کی پرفارمنس پر شدید اعتراضات اُٹھائے اور ملکی فٹبال فیڈریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
واضح رہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے گزشتہ برس ہی عراق پر فٹ بال میچوں کی میزبانی پر خانہ جنگی کے باعث 1990 سے عائد پابندی ختم کردی ہے جس کے بعد عراقی سرزمین پر یہ پہلا عالمی فٹبال میچ تھا۔