گلستان جوہر نیلامی کے ذریعے الاٹ پلاٹوں پر لینڈ مافیا کا قبضہ
جعلی دستاویزات کی مدد سے 100/100 گزکے پلاٹ کاٹ کر فروخت کردیے، متاثرہ افراد کا سوک سینٹر میں احتجاجی مظاہرہ
جعلی دستاویزات کی مدد سے 100/100 گزکے پلاٹ کاٹ کر فروخت کردیے، متاثرہ افراد کا سوک سینٹر میں احتجاجی مظاہرہ۔ فوٹو: فائل
لینڈ مافیا نے گلستان جوہر میں نیلامی کے زریعے الاٹ کیے جانے والے پلاٹوں پر قبضہ کرکے جعلی دستاویزات کی مدد سے 100/100 گزکے پلاٹ کاٹ کر فروخت کردیے ہیں جبکہ اصل پلاٹوں کے مالکان در در کی ٹوکریں کھارہے ہیں۔
اس سلسلے میں اعلیٰ حکام کو متعدد بار درخواستیں دی گئی ہیں مگر کسی جگہ شنوائی نہیں ہوپائی، متاثرہ افراد نے سوک سینٹر میں احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر احتجاجی کلمات اور ان کے مطالبات درج تھے، مظاہرین کئی گھنٹے تک سوک سینٹر میں موجود رہے تاہم ان سے بلدیہ عظمیٰ کے کسی سینئر آفیسر نے ملاقات نہیں کی، مظاہرین نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے 30 سال قبل گلستان جوہر بلاک 1 میں نیلامی کے ذریعے چھ چھ سو گز کے پلاٹ حاصل کیے۔
ان پلاٹوں کی مد میں تمام ادائیگیاں بھی کردی گئی تاہم ان پر نہ تو ان کو پلاٹوں کا قبضہ ملا بلکہ ان پلاٹوں پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرکے اس پر سو سو گز کے پلاٹ کاٹ دیے ہیں اور کھلے عام اس کی فروخت کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی قیمتی اراضی کو ان کی آنکھوں کے سامنے فروخت کیا جارہا ہے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور کسی جگہ ان کی شنوائی نہیں ہورہی ہے، یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، مظاہرین نے بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں علاقہ پولیس اور منتخب نمائندوں کو بھی درخواستیں دیں مگر کوئی شخص ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔
احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ اب ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کسی طور پر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے، آج ہمارے احتجاج کا پہلا دن ہے اب ہم وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ اسمبلی کے سامنے جاکر بھی احتجاج کریں گے اور ہر سطح پر اس معاملے کو اٹھائیں گے، مظاہرین کا کہنا کہ ان کی تمام جمع پونجی پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرلیا اور ہم کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں، مظاہرین نے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا ازخود نوٹس لیں۔
اس سلسلے میں اعلیٰ حکام کو متعدد بار درخواستیں دی گئی ہیں مگر کسی جگہ شنوائی نہیں ہوپائی، متاثرہ افراد نے سوک سینٹر میں احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر احتجاجی کلمات اور ان کے مطالبات درج تھے، مظاہرین کئی گھنٹے تک سوک سینٹر میں موجود رہے تاہم ان سے بلدیہ عظمیٰ کے کسی سینئر آفیسر نے ملاقات نہیں کی، مظاہرین نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے 30 سال قبل گلستان جوہر بلاک 1 میں نیلامی کے ذریعے چھ چھ سو گز کے پلاٹ حاصل کیے۔
ان پلاٹوں کی مد میں تمام ادائیگیاں بھی کردی گئی تاہم ان پر نہ تو ان کو پلاٹوں کا قبضہ ملا بلکہ ان پلاٹوں پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرکے اس پر سو سو گز کے پلاٹ کاٹ دیے ہیں اور کھلے عام اس کی فروخت کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی قیمتی اراضی کو ان کی آنکھوں کے سامنے فروخت کیا جارہا ہے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور کسی جگہ ان کی شنوائی نہیں ہورہی ہے، یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، مظاہرین نے بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں علاقہ پولیس اور منتخب نمائندوں کو بھی درخواستیں دیں مگر کوئی شخص ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔
احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ اب ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کسی طور پر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے، آج ہمارے احتجاج کا پہلا دن ہے اب ہم وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ اسمبلی کے سامنے جاکر بھی احتجاج کریں گے اور ہر سطح پر اس معاملے کو اٹھائیں گے، مظاہرین کا کہنا کہ ان کی تمام جمع پونجی پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرلیا اور ہم کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں، مظاہرین نے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا ازخود نوٹس لیں۔