قومی اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا حکومت کا قومی اسمبلی میں جواب
روس سے 5ہزارمیگاواٹ بجلی لینے کی پیشکش کاجائزہ لیاجارہاہے،عابدشیر
روس سے 5ہزارمیگاواٹ بجلی لینے کی پیشکش کاجائزہ لیاجارہاہے،عابدشیر،4بیل آؤٹ پیکیج کے باوجوداسٹیل ملزکی حالت ابترہے،مرتضیٰ جتوئی. فوٹو: فائل
PESHAWAR:
قومی اسمبلی کو حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈیموں سے زیادہ قومی ہم آہنگی عزیز ہے لہٰذا کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔
جمعے کو وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے پانی وبجلی چوہدری عابد شیرعلی نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے بتایا کہ ماضی میں کالا باغ ڈیم کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی، اسی وجہ سے زیرغور منصوبوں میں اسے شامل کیا گیا ہے تاہم یہ منصوبہ قومی اتفاق رائے کے بغیرتعمیرنہیں ہوسکتا،حکومت اس حوالے سے کوئی تنازع نہیں بڑھانا چاہتی، اس وقت قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ دیگرسوالات کے جوابات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومتی اقداماتسے لوڈ شیڈنگ کم ہوئی ہے۔
کے ای ایس سی نے لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ نہیں کیا، کاسا1000منصوبے کے تحت 2 سال میں پاکستان کے سسٹم میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی آجائے گی جبکہ روس سے 5 ہزارمیگاواٹ بجلی کے حصول کے حوالے سے ان کی پیشکش کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تیل سے چلنے والے 2840 میگاواٹ کے3منصوبوں کو کوئلے پر تبدیل کرنے کی فزیبلٹی تیار کی گئی ہے،1350 میگاواٹ کا منصوبہ مظفر گڑھ، 850 کا جام شورو اور 640 میگاواٹ کا پروجیکٹ گدو میں ہے،اس وقت پن بجلی کے 8منصوبے زیر تعمیر ہیں جن میں نیلم جہلم، گومل زام، دیامر بھاشا، نئی گاچ، جبن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ،کرم تنگی اورکیال خور ہائیڈرو پاورکے منصوبے شامل ہیں۔ وفاقی وزیر صنعت وپیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے بتایا کہ اسٹیل ملز کے 25 فیصد حصص فروخت کرنے کی تجویز ہے۔
ادارے کی موجودہ حالت انتہائی ابتر ہے، 2009 سے 2012 تک 40 ارب روپے کے 4 بیل آئوٹ پیکیج دینے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی، گزشتہ 5 سال کے دوران ادارے کو 86 ارب روپے خسارہ ہوچکا ہے اور روزانہ 6 سے 7 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے، اس کے نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری میرٹ پر کی جائے گی۔ مالاکنڈ میں بجلی کے واجبات سے حوالے سے عابد شیر علی کے جواب پر تحریک انصاف کے رکن سلیم الرحمٰن کے ردعمل پراسپیکر نے سخت برہمی کا اظہار کیا جس کے بعد سلیم الرحمٰن نے اپنے الفاظ واپس لے لیے۔
صدارتی خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بی این پی مینگل کے رکن عیسیٰ نوری نے کہا کہ سابق صدرزرداری نے اپنے دور میں بلوچوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ، بلوچستان کامسئلہ اقتصادی نہیں ہمیں اپنے وسائل پر خود مختاری چاہیے،ایوان میں وفاقی عدالت (تنسیخ) بل2013 بھی پیش کر دیا گیا،بعدازاںاسپیکرنے اجلاس پیرکی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔ اسپیکر کی جانب سے اچانک اجلاس ختم کرنے پرمعصوم بچیوں سے زیادتی کیخلاف مذمتی قراردادپیش نہ ہوسکی۔
قومی اسمبلی کو حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈیموں سے زیادہ قومی ہم آہنگی عزیز ہے لہٰذا کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔
جمعے کو وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے پانی وبجلی چوہدری عابد شیرعلی نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے بتایا کہ ماضی میں کالا باغ ڈیم کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی، اسی وجہ سے زیرغور منصوبوں میں اسے شامل کیا گیا ہے تاہم یہ منصوبہ قومی اتفاق رائے کے بغیرتعمیرنہیں ہوسکتا،حکومت اس حوالے سے کوئی تنازع نہیں بڑھانا چاہتی، اس وقت قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ دیگرسوالات کے جوابات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومتی اقداماتسے لوڈ شیڈنگ کم ہوئی ہے۔
کے ای ایس سی نے لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ نہیں کیا، کاسا1000منصوبے کے تحت 2 سال میں پاکستان کے سسٹم میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی آجائے گی جبکہ روس سے 5 ہزارمیگاواٹ بجلی کے حصول کے حوالے سے ان کی پیشکش کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تیل سے چلنے والے 2840 میگاواٹ کے3منصوبوں کو کوئلے پر تبدیل کرنے کی فزیبلٹی تیار کی گئی ہے،1350 میگاواٹ کا منصوبہ مظفر گڑھ، 850 کا جام شورو اور 640 میگاواٹ کا پروجیکٹ گدو میں ہے،اس وقت پن بجلی کے 8منصوبے زیر تعمیر ہیں جن میں نیلم جہلم، گومل زام، دیامر بھاشا، نئی گاچ، جبن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ،کرم تنگی اورکیال خور ہائیڈرو پاورکے منصوبے شامل ہیں۔ وفاقی وزیر صنعت وپیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے بتایا کہ اسٹیل ملز کے 25 فیصد حصص فروخت کرنے کی تجویز ہے۔
ادارے کی موجودہ حالت انتہائی ابتر ہے، 2009 سے 2012 تک 40 ارب روپے کے 4 بیل آئوٹ پیکیج دینے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی، گزشتہ 5 سال کے دوران ادارے کو 86 ارب روپے خسارہ ہوچکا ہے اور روزانہ 6 سے 7 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے، اس کے نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری میرٹ پر کی جائے گی۔ مالاکنڈ میں بجلی کے واجبات سے حوالے سے عابد شیر علی کے جواب پر تحریک انصاف کے رکن سلیم الرحمٰن کے ردعمل پراسپیکر نے سخت برہمی کا اظہار کیا جس کے بعد سلیم الرحمٰن نے اپنے الفاظ واپس لے لیے۔
صدارتی خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بی این پی مینگل کے رکن عیسیٰ نوری نے کہا کہ سابق صدرزرداری نے اپنے دور میں بلوچوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ، بلوچستان کامسئلہ اقتصادی نہیں ہمیں اپنے وسائل پر خود مختاری چاہیے،ایوان میں وفاقی عدالت (تنسیخ) بل2013 بھی پیش کر دیا گیا،بعدازاںاسپیکرنے اجلاس پیرکی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔ اسپیکر کی جانب سے اچانک اجلاس ختم کرنے پرمعصوم بچیوں سے زیادتی کیخلاف مذمتی قراردادپیش نہ ہوسکی۔