بھارت میں پسند کی شادی کرنے والی کم سن لڑکی پر تشدد ویڈیو وائرل

لڑکی کے والدین سمیت گاؤں کا کوئی بھی فرد پنچایت کے خلاف رپورٹ درج کرانے پر راضی نہیں، پولیس

14 سالہ لڑکی اپنے کزن کے ساتھ شادی کے لیے گھر سے فرار ہوگئی تھی (فوٹو : بھارتی میڈیا)

بھارت میں پسند کی شادی کے لیے اپنے کزن کے ساتھ فرار ہونے والی 14 سالہ لڑکی کو گاؤں کی پنچایت نے سرعام بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کم سن لڑکی کو لاٹھیوں، لاتوں اور گھونسوں سے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور میں پیش آیا جہاں پنچایت کے ارکان نے 14 سالہ لڑکی کو پسند کی شادی کا اظہار کرنے پر سرعام ذلیل کیا اور تشدد کرتے رہے۔


گاؤں کی پنچایت نے 20 سالہ کزن کو زمین پر بٹھا کر سرجھکائے رکھنے کا حکم دیا اور پھر کم سن لڑکی کو پیش کیا گیا جس نے پوچھ گچھ کے دوران کزن سے شادی کا اظہار اور فرار ہونے کا اقرار کیا جس پر گاؤں کے پنچایتی لیڈر نے کم سن لڑکی کو مارنا شروع کردیا۔

https://www.youtube.com/embed/4ruJGjMaSpo

سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور لڑکی سے والدین سے ملاقات کی تاہم والدین سمیت گاؤں کے کسی شخص نے پنچایت کے خلاف درخواست دائر کرنے سے انکار کردیا۔ پولیس نے لیڈی کانسٹیبل کو متاثرہ لڑکی سے ملنے اور بیان لینے کے لیے بھیج دیا۔
Load Next Story