اخوان المسلمون کے اثاثے ضبط

مصر میں ایک عدالت نے معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی کا حکم دیا ہے۔

مصر میں ایک عدالت نے معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی کا حکم دیا ہے۔ فوٹو: فائل

مصر میں ایک عدالت نے معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ اسلامی جماعت، اس کی غیر سرکاری تنظیم اور اس سے وابستہ ہر تنظیم پر لاگو ہوتا ہے۔ مصر میں سیاسی حالات کی ابتری تشویش ناک ہے۔انقلابی تبدیلی، عرب بہار اور مشرق وسطیٰ کے سیاسی سیاق وسباق ٰمیں جمہوریت کی طرف پیش قدمی کا جو عندیہ دیا گیا تھا اسے فوجی کارروائی نے دھندلا دیا ہے اور مصر اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے ۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مرسی کا مستقبل، اخوان المسلمون کی قانونی اور تنظیمی حیثیت کے بارے میں عدالتی فیصلے مزید فضا کو گھمبیر بنا سکتے ہیں جب کہ فوج اپنی حیثیت اور اقتدار کو مستحکم کرنے کے ہر ممکن جتن کررہی ہے۔عدالت نے عبوری حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے اثاثے قبضے میں لے کر اس سلسلے میں کسی اپیل کی سنوائی تک اس کی نگرانی کے لیے ایک پینل تشکیل دے۔ صدر مرسی کی معزولی اور آئین کی معطلی کے بعد قاہرہ میں انتظامی عدالت کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ اخوان المسلمین کی قانونی حیثیت پر نظرثانی کرے۔واضح رہے85سال پرانی اسلامی جماعت پر مصر کی فوج نے 1954 میں پابندی عائد کر دی تھی۔

عبوری حکومت کے50 رکنی وفد کے رکن محمد سلمانوی نے کہاکہ سابق صدر مرسی کی اسلامی جماعت کی جانب سے بنائے گئے تمام قوانین کو تبدیل کرنے کے بعد ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے گا ۔دیکھنا یہ ہے کہ جمہوریت اور آمریت کے اس دورانیے میں جیت کس کی ہوتی ہے، ادھر بعض مبصرین کی رائے ہے کہ فوجی سیٹ اپ کو عالمی طاقتوں کی در پردہ حمایت نہ ملتی تو مرسی حکومت کا تختہ الٹناآسان نہ تھا۔ امریکا سمیت مغربی دنیا مصر کے سیاسی بحران پر تذبذب میں ہے جب کہ بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ اسرائیل کی بقا ،اس کی سلامتی اور دفاع کے تناظر میں مغربی طاقتیں اپنا گھنائونا کھیل کھیل رہی ہیں۔
Load Next Story