نسل کشی کے 2 سال مکمل بنگلا دیشی کیمپوں میں لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کا دعائیہ اجتماع
عالمی قوتیں میانمار حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو شہریت اور حقوق کی فراہمی پر مجبور کریں، اجتماع کا مطالبہ
دعائیہ اجتماع میں اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی (فوٹو : رائٹرز)
بنگلہ دیشی کیمپوں میں پڑے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں نے نسل کشی اور اپنے وطن سے بے دخلی کے دو سال مکمل ہونے پر دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا جس میں میانمار سے شہریت اور حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں منعقد کردہ دعائیہ اجتماع میں نسل کشی کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجتماع میں اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اجتماع کے شرکاء نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے اور تمام تر حقوق کی فراہمی کے لیے مجبور کرے اور نسل کشی میں ملوث افراد کو سزا دلوائی جائے۔
یہ خبر پڑھیں: میانمار فوج کے فضائی حملے میں 30 روہنگیا مسلمان جاں بحق
اجتماع میں 2 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، خواتین باحجاب تھیں جب کہ بچوں اور بڑوں نے ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے جارہے تھے۔
واضح رہے کہ 25 اگست 2017ء کو 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان تارکین وطن بنگلہ دیش پہنچے تھے اور کیمپوں میں پناہ لی تھی اور تب سے اس دن کو 'نسل کشی کے دن' طور پر منایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں منعقد کردہ دعائیہ اجتماع میں نسل کشی کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجتماع میں اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اجتماع کے شرکاء نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے اور تمام تر حقوق کی فراہمی کے لیے مجبور کرے اور نسل کشی میں ملوث افراد کو سزا دلوائی جائے۔
یہ خبر پڑھیں: میانمار فوج کے فضائی حملے میں 30 روہنگیا مسلمان جاں بحق
اجتماع میں 2 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، خواتین باحجاب تھیں جب کہ بچوں اور بڑوں نے ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے جارہے تھے۔
واضح رہے کہ 25 اگست 2017ء کو 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان تارکین وطن بنگلہ دیش پہنچے تھے اور کیمپوں میں پناہ لی تھی اور تب سے اس دن کو 'نسل کشی کے دن' طور پر منایا جاتا ہے۔