امریکی رکن پارلیمنٹ الہان عمر بھی کشمیریوں کی آواز بن گئیں
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، امریکی رکن پارلیمنٹ
عالمی اداروں کو مقبوضہ وادی تک رسائی دی جائے۔ الہان عمر (فوٹو : فائل)
امریکی کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر نے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں جارحیت کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں پر اپنی ایک ٹویٹ میں بھارتی حکومت سے مواصلاتی نظام، انسانی حقوق کے احترام اور مذہبی آزادی کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ وادی کے زمینی حقائق سے مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وادی کی صورت حال واضح ہوسکے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: مودی سرکار کی سفاکیت، مقبوضہ کشمیر میں شہدا کے 'ڈیتھ سرٹیفکیٹ' جاری کرنے سے انکار
امریکی رکن پارلیمنٹ نے مزید لکھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کے استعمال سے باز رہے، وادی میں مذہبی آزادی پر پابندی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے، بھارت عالمی اداروں کو خطے تک رسائی کے مواقع مہیا کرے تاکہ صورت حال کا درست جائزہ لیا جاسکے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 23 دنوں سے کرفیو نافذ ہے اور اس دوران صرف نقل وحمل پر ہی پابندی عائد نہیں بلکہ موبائل، نیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی معطل ہیں جس کے باعث وادی کا پوری دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں پر اپنی ایک ٹویٹ میں بھارتی حکومت سے مواصلاتی نظام، انسانی حقوق کے احترام اور مذہبی آزادی کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ وادی کے زمینی حقائق سے مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وادی کی صورت حال واضح ہوسکے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: مودی سرکار کی سفاکیت، مقبوضہ کشمیر میں شہدا کے 'ڈیتھ سرٹیفکیٹ' جاری کرنے سے انکار
امریکی رکن پارلیمنٹ نے مزید لکھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کے استعمال سے باز رہے، وادی میں مذہبی آزادی پر پابندی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے، بھارت عالمی اداروں کو خطے تک رسائی کے مواقع مہیا کرے تاکہ صورت حال کا درست جائزہ لیا جاسکے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 23 دنوں سے کرفیو نافذ ہے اور اس دوران صرف نقل وحمل پر ہی پابندی عائد نہیں بلکہ موبائل، نیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی معطل ہیں جس کے باعث وادی کا پوری دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔