قومی اسمبلی وزرا کی غیر حاضری پر اپوزیشن کا واک آؤٹ شیم شیم کے نعرے
میرے علاج کے نام پر50لاکھ کون کھاگیا؟ہاشمی کاسوال، تحقیقات کررہے ہیں، نثار
پچھلے دور حکومت میں صوابدیدی فنڈ، سیکرٹ فنڈز اور زلزلہ زدگان کے فنڈز سے خرچ کی گئی رقوم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، وفاقی وزیر داخلہ فوٹو: فائل
قومی اسمبلی نے بلوچستان میں آنیوالے تباہ کن زلزلے پر متاثرہ خاندانوں اور صوبائی حکومت کیساتھ اظہار یکجہتی کی متفقہ قرارداد منظور کرلی ۔
جبکہ ایم کیوایم کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے وزرا اور حکومتی ارکان کی کم حاضری کیخلاف شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ بدھ کوا سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ بلوچستان اور سندھ میں آنیوالے زلزلے میں جاں بحق ہونیوالوں کیلیے فاتحہ خوانی کرائی جائے ۔ اسپیکر کے کہنے پر مولانا قمرالدین نے فاتحہ خوانی کرائی۔ بعدازاں پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ مری نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان تباہ کن زلزلے پر بلوچستان کی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کااظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف اور امدادی سرگرمیوں کو یقینی بنائے، ایوان نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔
نمازظہر کے وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ایوان میں بلوچستان کے زلزلے کے حوالے سے بات کرنیکا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وزراء اور حکومتی ارکان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، آواران میں زلزے سے سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔
بلوچستان کا معاملہ سنجیدگی کا متقاضی ہے لیکن یہاں جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ، وزیراعظم کو امریکہ سے عوام سے مخاطب ہونا چاہیے تھے۔ اس کیساتھ ہی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرنے لگے تو وزیر مملکت شیخ آفتاب نے کہا کہ خورشید شاہ نے دو بجے اپوزیشن کا اجلاس طلب کررکھا ہے ، اپوزیشن جماعتیں اس اجلاس میں شرکت کیلیے جارہی ہیں اور ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہی ہیں۔
اپوزیشن قدرتی آفت کو سیاسی ایشو بنانے کی کوشش نہ کرے، نقصانات کی رپورٹ کل (جمعرات) کو ایوان میں پیش کر دی جائے گی ۔ اس دوران اپوزیشن ارکان شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے تاہم ایم کیوایم نے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا، تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میرے علاج معالجہ کے نام پر 50 لاکھ روپے کے اخراجات ظاہر کیے گئے جبکہ میں نے اپنے علاج کیلیے ایک پیسہ بھی نہیں لیا، یہ رقم کون کھا گیا ، حکومت حقائق سامنے لائے۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ اب تک جوبات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ جاوید ہاشمی کے نام پر یہ رقم نکلوائی گئی ہے مگر یہ رقم انھوں نے نہیں لی۔
جبکہ ایم کیوایم کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے وزرا اور حکومتی ارکان کی کم حاضری کیخلاف شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ بدھ کوا سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ بلوچستان اور سندھ میں آنیوالے زلزلے میں جاں بحق ہونیوالوں کیلیے فاتحہ خوانی کرائی جائے ۔ اسپیکر کے کہنے پر مولانا قمرالدین نے فاتحہ خوانی کرائی۔ بعدازاں پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ مری نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان تباہ کن زلزلے پر بلوچستان کی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کااظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف اور امدادی سرگرمیوں کو یقینی بنائے، ایوان نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔
نمازظہر کے وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ایوان میں بلوچستان کے زلزلے کے حوالے سے بات کرنیکا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وزراء اور حکومتی ارکان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، آواران میں زلزے سے سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔
بلوچستان کا معاملہ سنجیدگی کا متقاضی ہے لیکن یہاں جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ، وزیراعظم کو امریکہ سے عوام سے مخاطب ہونا چاہیے تھے۔ اس کیساتھ ہی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرنے لگے تو وزیر مملکت شیخ آفتاب نے کہا کہ خورشید شاہ نے دو بجے اپوزیشن کا اجلاس طلب کررکھا ہے ، اپوزیشن جماعتیں اس اجلاس میں شرکت کیلیے جارہی ہیں اور ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہی ہیں۔
اپوزیشن قدرتی آفت کو سیاسی ایشو بنانے کی کوشش نہ کرے، نقصانات کی رپورٹ کل (جمعرات) کو ایوان میں پیش کر دی جائے گی ۔ اس دوران اپوزیشن ارکان شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے تاہم ایم کیوایم نے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا، تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میرے علاج معالجہ کے نام پر 50 لاکھ روپے کے اخراجات ظاہر کیے گئے جبکہ میں نے اپنے علاج کیلیے ایک پیسہ بھی نہیں لیا، یہ رقم کون کھا گیا ، حکومت حقائق سامنے لائے۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ اب تک جوبات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ جاوید ہاشمی کے نام پر یہ رقم نکلوائی گئی ہے مگر یہ رقم انھوں نے نہیں لی۔