کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹ

سیکیورٹی ادارے کے اہلکار ان علاقوں میں جانے سے گھبراتے ہیں جہاں اسلحہ اور جرائم پیشہ افرادموجود ہیں، آصف حسنین


ویب ڈیسک September 16, 2013
شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود جرائم میں کسی بھی طرح کمی نہیں ہوئی. آصف حسنین۔ فوٹو : فائل

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف قومی اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کردیا۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی آصف حسنین نے کہا کہ شہر کا 85 فیصد حصہ پر امن اور اسلحے سے پاک ہے 15 فیصد علاقے میں اسلحہ موجود ہے اور وہاں سے جرائم پیشہ افراد اپنا نیٹ ورک چلارہے ہیں، لیکن سیکیورٹی ادارے کے اہلکار ان علاقوں میں جانے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود جرائم میں کسی بھی طرح کمی نہیں ہوئی۔

آصف حسنین کا کہنا تھا کہ شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے نام پر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا جارہا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق رکن صوبائی اسمبلی ندیم ہاشمی اور ایم کیو ایم کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے اور جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کیا جائے۔ ایوان سے خطاب کے بعد ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے ایوان سے واک آآٹ کردیا۔