جنوبی افریقہ میں غیر ملکی کاروباری افراد کے خلاف ہنگامے

شہر کے کاروباری علاقے میں ہنگامے کرنے والوں کی اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔

شہر کے کاروباری علاقے میں ہنگامے کرنے والوں کی اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

جنوبی افریقہ کے دارالحکومت جوہانسبرگ میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف ہنگامے شروع ہو گئے ہیں جن کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ ہنگامے کرنے والے جنوبی افریقہ کے سیاہ فام باشندے ہیں جنھوں نے ہنگاموں کے دوران زیادہ تر سفید فاموں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

شہر کے کاروباری علاقے میں ہنگامے کرنے والوں کی اکثریت سیاہ فاموں کی ہے جنھوں نے جوہانسبرگ کے ڈاؤن ٹاؤن میں دکانوں پر لوٹ مار بھی کی۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا (Cyril Ramaphosa) نے ہنگاموں پر سختی سے قابو پانے کے عزم کا اظہار کیا ہے جب کہ افریقن یونین اور نائجیریا نے جوہانسبرگ میں ہنگاموں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہنگاموں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی وجوہات پر قابو پایا جائے تاکہ شہر کا امن و امان برقرار رہے۔

ہنگامہ آرائی کرنے والے بھرپور ہجوم کی شکل میں تھے جن میں سے کچھ نے کلہاڑیاں اٹھا رکھی تھیں اور کچھ لوگوں نے ہاتھ میں گھیراؤ جلاؤ کرنے کے لیے مشعلیں اٹھا رکھی تھیں جو جوہانسبرگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں اکٹھے ہوگئے۔ تب ہنگامہ خیز ہجوم نے الیگزینڈریا کے ٹاؤن شپ میں دکانوں پر لوٹ مار اور آتشزنی شروع کر دی۔ جواب میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

پولیس نے 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ 189 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔صدر راما فوسا نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے بزنس کو نقصان پہنچانا کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہر میں ہنگامہ آرائی اور تشدد کی ہرگز کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کو برداشت کیا جاسکتا ہے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ میں غیر ملکی کاروبار کے خلاف تشدد کے واقعات کافی عرصے سے رونما ہوتے رہے ہیں جب کہ کئی مقامی لوگ غیر ملکیوں کو روزگار میں کمی کا ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ بالخصوص ہاتھ سے کرنے والے کاموں کی کمی کی وجہ غیر ملکی کاروباریوں کو قرار دیا جارہا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ کے پڑوسی ملکوں میں لیسوتھو، موزمبیق، زمبابوے اور دیگر ملکوں میں بیروزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے لہٰذا وہ روزگار کے حصول کے لیے جنوبی افریقہ میں آتے رہتے ہیں لیکن اس مرتبہ غیر ملکی کاروبار اورا سٹوروں کے خلاف جو کارروائی ہوئی ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نائجیریا افریقی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے۔

ایک بنگلہ دیشی دکاندار قمرالحسن نے بتایا ہے کہ اس کی دکان پر ہر چھ سات ماہ بعد حملہ ہوتا رہا ہے اور آگ لگا کر دکان کا بہت نقصان کردیا جاتا ہے۔ قمرالحسن نے مزید بتایا کہ اس کی تمام رقم ضایع ہوچکی ہے لہٰذا اگر جنوبی افریقہ کی حکومت اس کی مدد کرے تو وہ فوری طور پر ٹکٹ کٹا کر بنگلہ دیش واپس چلے جائیں گے۔

واضح رہے الیگزینڈریا جنوبی افریقہ کا غریب ترین علاقہ ہے جب کہ اس سے تھوڑی دور سینڈین کا علاقہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں ملک کا سب سے تیز بزنس ہوتا ہے۔ دارالحکومت پریٹوریا میں بھی اتوار کے دن ہنگاموں کی اطلاع ملی ہے لیکن وہاں پر جلد قابو پالیا گیا ہے۔
Load Next Story