معیشت کے فالٹ فری ہونے کی ضرورت

حکومت اپنے فیس ویلیو پر اس معاملہ کو صائب طریقے سے حل کرکے بحران کا سدباب کرسکتی ہے۔


Editorial September 05, 2019
حکومت اپنے فیس ویلیو پر اس معاملہ کو صائب طریقے سے حل کرکے بحران کا سدباب کرسکتی ہے۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت کے مالیاتی نظام اور اقتصادی امور میں فالٹ فری میکنزم کی جتنی ضرورت آج محسوس کی جاتی ہے اس سے پہلے اس پر اتنا زور نہیں دیا جاتا تھا، اور نہ میڈیا اور انتظامیہ کی طرف سے معاشی معاملات کی بالادستی کو سیاسی نظام پر کوئی فوقیت حاصل تھی لیکن آج کے سیاسی و معاشی نظام کی افقی و عمودی ہیئت ہی بدل گئی ہے۔

آج حکومت ،اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ ، اقتصادی امور کے ماہرین حد درجہ اقتصادی اور معاشی مینجمنٹ کو شفافیت اور بنیادی اہمیت دینے کے حق میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاسی اور دفاعی نظام کے استحکام کی اصل حیثیت بھی ملکی معاشی نظام میں مضمر استقامت سے مشروط ہے ۔ کوئی حکومت معاشی ،تجارتی،کاروباری اور اقتصادی مس مینجمنٹ کی قطعی طورپر متحمل نہیں ہوسکتی ۔

جوابدہی کے الرٹ سسٹم میں متحرک میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کا کردار امور حکومت میں بنیادی فیکٹر کی حیثیت رکھتا ہے،حکومتیں محتاط رہنے لگی ہیں، کوئی مس مینجمنٹ نظر سے اوجھل نہیں ہوسکتی، شفافیت اور جوابدہی کے کثیرجہتی معاملات نے طرز حکمرانی کو تنی ہوئی رسی پر چلنے سے تعبیر کیا ہے۔

چنانچہ ادھر ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے بڑے صنعتکاروں کو گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی ) کی مد میں208 ارب روپے ٹیکس معافی کا نوٹس لیتے ہوئے اس آرڈیننس میں ترمیم اور ان پانچ کھاد کمپنیوں کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا ہے جنھوں نے غریب کسانوں سے تو اس ٹیکس کی مد میں رقم وصول کرلی لیکن پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے صورتحال کا سختی سے نوٹس لیا اور کہاکہ انھوں نے قومی خزانے کی حفاظت کی ذمے داری خود لی ہے، کسی کو ایسے نوازا نہیں جائے گا۔ واضح رہے ٹیکس معافی کے لیے یہ آرڈیننس 27 اگست کو جاری کیا گیا تھا۔

اس سے پانچ روز قبل میڈیا نے نشاندہی کردی تھی کہ حکومت چند بڑے صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اب آرڈیننس میں ترمیم ایسے موقع پر کی جارہی ہے جب اپوزیشن نے اسے سینیٹ میں مستردکرنے کا اعلان کیا ہے جہاں اس کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس اکثریت نہیں۔ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ جی آئی ڈی سی سے سالانہ 15 ارب جمع ہوتے ہیں، تنازعات حل ہونے سے تین گنا رقم حاصل ہوگی۔

معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی شعبے کو ناجائز رعایات نہیں دی جا رہیں، گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس معاملے کے حل سے سالانہ 45ارب کا فائدہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو ''مفت کا کھانا'' نہیں کھلایا ، تمام امور شفاف طریقے سے آگے بڑھے ہیں۔ موجودہ آرڈیننس شفاف طریقے سے سامنے لایا گیا۔

حقیقت میں حکومت اپنے فیس ویلیو پر اس معاملہ کو صائب طریقے سے حل کرکے بحران کا سدباب کرسکتی ہے ،مگر جو بنیادی بات ہے وہ مذموم مفادات کی تکمیل کے راستے کو بند کرنا ہے جن سے حکومت کو بلیک میل کرنا دشوار ہوجائے اور حکومت کسی قسم کے اسکینڈل ،دباؤ اور مس مینجمنٹ کے الزام کی زد میں نہ آئے، حکومت اور اقتصادی مسیحاؤں کا کام یہ ہے کہ مالی معاملات میں بدعنوانی کا کسی کو موقع میسر نہ آئے، کوئی خفیہ ڈیل ممکن نہ ہو اور این آراو کی باتیں محض پوائنٹ اسکورنگ کی بنیاد نہ بنیں ۔

یہ خوش آیند ہے کہ وزیراعظم نے بروقت تحقیقات کی ہدایت کرکے ایک مثبت پیش قدمی کی ہے، حکومت کے ایکسٹرا الرٹ رہنے کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ اپوزیشن کو بدعنوانی، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس اور دیگرہائی پروفائل کیسز میں اعصاب شکن احتساب کا سامنا ہے، اس لیے یہ فطری امر ہے کہ ایسی'' دست تہ سنگ '' اپوزیشن کی کوشش رہے گی کہ وہ ہر وقت حکومتی مس مینجمنٹ، من پسندوں کو نوازنے ، فراڈ، ڈیل، فیک یا حقیقی این آراو سمیت دیگر غلطیوں، بے ضابطگیوں کو طشت ازبام کرے جو میڈیا ٹرائل کی غذا بھی بنے ،حکومت موافق عناصر کی خاموش مراعات لینے کے انکشافات بھی کرے۔

دوسری جانب نفع خوری کے رجحانات رکھنے والے مفاد پرستوں ، سرمایہ دار، من پسند گروہوں کو دور رکھنے کی بھی ضرورت ہے جو کسی بھی حکمراںکو دھوکا دینے سے باز نہیں آتے، لہذا معاشی امور کی مانیٹرنگ اور انجام دہی میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ حکومت سے خیر سگالی کی آڑ میں غیرمرئی طاقتوںکے حامل قریبی رفقائے کار درپردہ مفادات کے حصول کے لیے ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے کی جرات ہی نہ کریں۔

معاشی دنیا کا مشہور مقولہ ہے کہA bad system will beat a good person every timeکیونکہ ملکی اقتصادی نظام میں مضمر خرابیوںکو پی ٹی آئی حکومت چھو منتر سے دور نہیں کرسکتی،حکومت معیشت کو درپیش بحران کو ایک قابل عمل ، نتیجہ خیز اور عوام کو ریلیف مہیا کرنے والے روڈمیپ سے ہی حل کرنے کی سمت پیش رفت کرسکتی ہے، معیشت کو ایسی پچ ملنی چاہیے جس پر وہ ہرقسم کے باؤنس ،گگلی اور یارکر کو کھیل سکے۔ معاشی ٹیم کو مزید مضبوط ہونا پڑے گا۔

مقبول خبریں