پولیس کی مبینہ ملی بھگت آرام باغ تھانے کے لاک اپ سے کار لفٹر گروپ کا کارندہ فرار
اے ایس آئی سمیت 3 اہلکارگرفتار، ایس ایچ او جاوید قمر کیانی تھانے سے فرار ہوگیا جس کو معطل کرکے تلاش شروع کردی گئی
سی آئی ڈی اور ساؤتھ پولیس ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔فوٹو:فائل
آرام باغ تھانے کے لاک اپ سے پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے بین الصوبائی کار لفٹر لاشاری گروپ کا کارندہ فرار ہوگیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے حکم پر ایک اے ایس آئی سمیت 3اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ، ایس ایچ او جاوید قمر کیانی تھانے سے فرار ہوگیاجس کو معطل کرکے تلاش شروع کردی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق آرام باغ تھانے میں اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس نے بین الصوبائی کارلفٹر گروہ کے کارندے مصطفی کو امانت کے طور پر لاک اپ میں بند کرایا تھا ، ذرائع کے مطابق پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ملزم مصطفی فرار ہوگیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
ملزم کے فرار ہونے کی اطلاع پر اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس کے اعلیٰ افسران آرام باغ تھانے پہنچ گئے جہاں ایس ایچ او قمر کیانی اور اے سی ایل سی کے افسران میں تلخ کلامی ہوگئی جس پر ایس ایس پی اے سی ایل سی نے ڈی آئی جی سائوتھ کو پورا واقعے کے بارے میں بتایا، ڈی آئی جی کے حکم پر غفلت لاپروائی برتنے پر ڈیوٹی افسر اے ایس آئی امیر ، ہیڈ محرر مقصود اور سنتری پہرے پر تعینات پولیس کانسٹیبل فرید کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ، اعلیٰ افسران نے ایس ایچ او قمر کیانی کو معطل کرکے گرفتاری کے احکامات جاری کیے، ذرائع کے مطابق ایس ایچ او آرام باغ سب انسپکٹر جاوید قمر کیانی موقع کی نوعیت کو بھانپتے ہوئے تھانے سے فرار ہوگیا، سی آئی ڈی پولیس اور ساؤتھ پولیس اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے، آخری اطلاعات تک اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے حکم پر ایک اے ایس آئی سمیت 3اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ، ایس ایچ او جاوید قمر کیانی تھانے سے فرار ہوگیاجس کو معطل کرکے تلاش شروع کردی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق آرام باغ تھانے میں اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس نے بین الصوبائی کارلفٹر گروہ کے کارندے مصطفی کو امانت کے طور پر لاک اپ میں بند کرایا تھا ، ذرائع کے مطابق پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ملزم مصطفی فرار ہوگیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
ملزم کے فرار ہونے کی اطلاع پر اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس کے اعلیٰ افسران آرام باغ تھانے پہنچ گئے جہاں ایس ایچ او قمر کیانی اور اے سی ایل سی کے افسران میں تلخ کلامی ہوگئی جس پر ایس ایس پی اے سی ایل سی نے ڈی آئی جی سائوتھ کو پورا واقعے کے بارے میں بتایا، ڈی آئی جی کے حکم پر غفلت لاپروائی برتنے پر ڈیوٹی افسر اے ایس آئی امیر ، ہیڈ محرر مقصود اور سنتری پہرے پر تعینات پولیس کانسٹیبل فرید کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ، اعلیٰ افسران نے ایس ایچ او قمر کیانی کو معطل کرکے گرفتاری کے احکامات جاری کیے، ذرائع کے مطابق ایس ایچ او آرام باغ سب انسپکٹر جاوید قمر کیانی موقع کی نوعیت کو بھانپتے ہوئے تھانے سے فرار ہوگیا، سی آئی ڈی پولیس اور ساؤتھ پولیس اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے، آخری اطلاعات تک اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔