ن لیگ اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلسل سیاست کررہی ہیں فردوس عاشق
اپوزیشن سیاسی منافقت کی مثال بن چکی ہے، معاون خصوصی
جو آپس میں سچ نہیں بول سکتے وہ عوام سے کیا سچ بولیں گے؟ فردوس عاشق فوٹو: فائل
لاہور:
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلسل سیاست کر رہی ہیں۔
اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی منافقت کی مثال بن چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلسل سیاست کر رہی ہیں۔ دونوں جماعتیں مولانا کے ساتھ کھڑے ہونے کا خطرہ بھی مول نہیں لینا چاہتیں۔ آپس میں جو سچ نہیں بول سکتے وہ عوام کے ساتھ کیا سچ بولیں گے؟ دونوں جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مدارس کے معصوم اور غیرسیاسی بچوں کو سیاسی مفادات کا ایندھن بنانا چاہتی ہیں جو افسوسناک ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کو اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہیں، وہ ان کے عزائم بھانپیں۔ ایک سیاسی نبض شناس عوام کی نبض کو کیوں نہیں سمجھ پا رہا؟ ان کی باہمی نااتفاقی ثبوت ہے کہ یہ اپنے سیاسی مفاد میں صرف مولانا فضل الرحمان کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی عوام میں پذیرائی تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنی آواز مظلوم کشمیریوں کے حق میں بلند کریں۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر پروٹوکول اور مراعات کا قرض ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اپنے الفاظ کے تیروں کا رخ فسطائی مودی کی جانب موڑیں۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلسل سیاست کر رہی ہیں۔
اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی منافقت کی مثال بن چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلسل سیاست کر رہی ہیں۔ دونوں جماعتیں مولانا کے ساتھ کھڑے ہونے کا خطرہ بھی مول نہیں لینا چاہتیں۔ آپس میں جو سچ نہیں بول سکتے وہ عوام کے ساتھ کیا سچ بولیں گے؟ دونوں جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مدارس کے معصوم اور غیرسیاسی بچوں کو سیاسی مفادات کا ایندھن بنانا چاہتی ہیں جو افسوسناک ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کو اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہیں، وہ ان کے عزائم بھانپیں۔ ایک سیاسی نبض شناس عوام کی نبض کو کیوں نہیں سمجھ پا رہا؟ ان کی باہمی نااتفاقی ثبوت ہے کہ یہ اپنے سیاسی مفاد میں صرف مولانا فضل الرحمان کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی عوام میں پذیرائی تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنی آواز مظلوم کشمیریوں کے حق میں بلند کریں۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر پروٹوکول اور مراعات کا قرض ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اپنے الفاظ کے تیروں کا رخ فسطائی مودی کی جانب موڑیں۔