کھجلی کرتے ہیں بہرحال کھجانے والے

یہ خالی جیب ہی ہے جو ہمیں ہر شہر کی ہر اچھی چیز سے اکتائے رکھتی ہے

barq@email.com

آپ سے کیا پردہ ویسے تو ہم کالم نگار بھی انھی لوگوں میں سے ہیں جو بغیر کھجلی کے کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کھجاتے رہتے ہیں، چاہے کھجلی ہو یا نہ ہو، حالانکہ بزرگوں نے کہا ہے کہ جہاں کھجلی نہ ہو وہاں مت کھجاؤ، لیکن عادت بھی تو بری بلا ہے ایک مرتبہ پڑ جائے تو مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتی، جیسا کہ منیرؔ نیازی کو اکتائے ہوئے رہنے کی عادت پڑ گئی تھی

عادت سی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

شعر کو اگر آپ نے غور سے پڑھا ہو تو اس میں ''عادت'' پڑی نہیں ہے بلکہ ''بنائی گئی'' ہے، منیرؔ نیازی کا تو پتہ نہیں کہ انھوں نے ہر شہر میں ''اکتائے ہوئے رہنے'' کی یہ عادت کیوں بنا لی تھی لیکن ہمیں اپنے بارے میں پتہ ہے کہ سارا کیا دھرا ہماری واحد دشمن ''خالی جیب'' کا ہے یہ خالی جیب ہی ہے جو ہمیں ہر شہر کی ہر اچھی چیز سے اکتائے رکھتی ہے

ہے کچھ ایسی بات جو چپ ہیں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

ایک محترمہ لومڑی کو بھی یہ بیماری لگی تھی اور اس نے کھٹا کہہ کر انگور سے بیزاری اور اکتانے کا اعلان کر دیا تھا لیکن یہ ہم کس ٹریک پر چل پڑے ابتداء تو ہم نے ''کھجانے'' کی پٹڑی سے کی تھی شاید یہ بھی کھجلی کے بغیر جگہ جگہ کھجانے کی بری عادت کا شاخسانہ ہے، ہاں تو بات ہم یہ کر رہے تھے کہ ویسے تو ہم کالم نگار بھی بغیر کھجلی کے کھجانے والوں میں شامل ہیں بلکہ کھجانے والوں کے سرخیل ہیں لیکن آج کل یہ بغیر کھجلی کی کھجلاہٹ کچھ زیادہ ہی پھیل گئی، شاید موسم یا ہوا میں کچھ الرجی پیدا کرنے والے عناصر وغیرہ بڑھ گئے ہوں، بلکہ ہمیں تو ایک چیز پر شک بھی ہے شاید فضاء میں یہ جو بے حد و حساب موبائل، ٹی وی اور انٹرنیٹ سگنلز منتشر ہو رہے ہیں یہ انھی کا اثر ہو، کیوں کہ اس ھمہ گیر ''بے کھجلی کی کھجلی'' کا سارا زور بھی موبائل سیٹوں کے آس پاس ہی پایا گیا ہے جس کی جیب میں یہ کھجلی خیز آلہ ہوتا ہے وہ رہ ہی نہیں سکتا، کہیں نہ کہیں تو کھجاتا ہی رہتا ہے بعض بے چارے تو اتنے زیادہ کھجلی زدہ ہوتے ہیں کہ بیچ بازار بلکہ بیچ سڑک میں اچانک کھجانے لگتے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ خود اس الرجی یا کھجلی کا خاصہ یہی ہو کہ جہاں بھیڑ ہو وہیں پر شروع ہو جائے، ویسے تو کھجلی قطعی ایک ذاتی اور پرسنل سرگرمی ہے لیکن کالم نگاروں اور موبائل برداروں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بے چارے اکثر دوسروں کی کھجلی کھجاتے رہتے ہیں یعنی

کھجلی لگے کسی پہ کھجاتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کی کھجلی ہمارے بدن میں ہے


بلکہ ہمارے ساتھ تو المیہ ہے کہ ہم ''تھرڈ ہینڈ'' کھجلی کے بھی اکثر شکار رہتے ہیں، تھرڈ ہینڈ کھجلی یوں سمجھئے کہ ایک تو ہماری اپنی ذاتی اور پرسنل کھجلی ہوتی ہے مثلاً پاکستان امریکا کے ساتھ یہ کیوں نہیں کرتا، حکومت یہ کیوں کرتی ہے اور وہ کیوں نہیں کرتی، وزیروں کو یہ یہ کرنا اور یہ یہ نہیں کرنا چاہیے، اس کے بعد دوسری کھجلی یہ ہے کہ ہم مسائل کو کھجاتے رہتے ہیں لیکن یہ تیسری قسم یا تھرڈ ہینڈ کھجلی وہ ہے جو ہمیں ایس ایم ایس وغیرہ کے ذریعے لاحق ہوتی ہے بلکہ لاحق کی جاتی ہے، مثلاً فلاں جگہ کھجلی ہو رہی ہے تم کیوں نہیں کھجاتے، وائی یو آر ناٹ کھجائنگ ۔۔۔ وہ جگہ کھجاؤ یہ جگہ مت کھجاؤ، کھجاؤ نہ کھجاؤ کے اس شور نے ہمیں تو اچھا خاصا ''مہیش بھٹ'' بنا کر رکھ دیا۔ بانس کو تو یہ شکایت ہے کہ چٹکی جو ۔۔۔ تو نے کاٹی ہے چوری سے کاٹی ہے ۔۔۔ یہاں وہاں ۔۔۔ اور ہمیں وہی رونا کھجلی سے ہے، جو یہ ایس ایم ایس والے ہمیں لگاتے رہتے ہیں بلکہ اب تو یہ کھجلی متعدی بھی ہو گئی ہے ایک شخص ایس ایم ایس کے ذریعے صحافیوں کو کھجلی کرنے کے لیے کہتا ہے اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی یہ کہہ کر صحافیوں پر چھوڑ دیتا ہے کہ فارورڈ کریں، چنانچہ ابھی کوئی کھجلی پیدا بھی نہیں ہوتی کہ ساری دنیا میں پھیل کر لگ جاتی ہے، متعدی بیماریوں سے تو پھر بھی بچنا ممکن تھا کہ کسی مریض کے قریب مت جاؤ اس کو کسی چیز کو ہاتھ مت لگاؤ یا پھر کسی صابن وغیرہ سے بھی کام چل جاتا تھا، لیکن یہ کم بخت الیکٹرانک ''کھجلی'' تو کہیں بھی نہیں چھوڑتی جراثیم سے بچنا ممکن ہے وائرس سے بچا جا سکتا ہے لیکن اس کھجلی سے

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

کبھی کبھی تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ انسان کو کہاں کہاں اور کیسی کیسی کھجلی ہو جاتی ہے پھر خاص طور پر پاکستان میں تو نہ جانے یہ پھونس اور الرجی کہاں کہاں سے کہاں کہاں تک پہنچ جاتی ہے ویسے کبھی کبھی ہمارے دل میں یہ خیال بھی آ جاتا ہے کہ اگر ہمارے پاس یہ کالم اور قلم نہ ہوتا تو ہم تو بالکل اس شخص کی طرح ہو جاتے جس کے دونوں ہاتھ نہ ہوں اور اسے کھجلی ہو جائے، لیکن زیادہ پھولنے کی ضرورت نہیں ہے بے شک کسی کے ہاتھ بھی ہوں لیکن دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کر ہتھکڑی میں جکڑے گئے ہوں اور ایسے میں اسے کھجلی ہو جائے، کسی اور کے بارے میں تو ہمیں علم نہیں لیکن ہمارے ساتھ بارہا ایسا ہو چکا ہے ایک دو نہیں کئی مقامات پر شدید کھجلی ہو جاتی ہے کھجانے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہاتھوں کو پیچھے بندھا ہوا پاتے ہیں ایسے میں انسان پر جو گزرتی ہے وہ صرف گزرنے والوں کو معلوم ہے، اچھلتا ہے، کودتا ہے، لیٹتا ہے، دوڑتا ہے، دیواروں سے، چارپائی سے، درختوں سے اور نہ جانے کس کس چیز سے خود کو رگڑتا ہے، مٹتی نہیں ہے جسم سے کھجلی لگی ہوئی،

دنیا میں سزائیں تو بہت ہیں لیکن ہمارے خیال میں کسی پر اگر خارش کا پورڈ ڈال کر ہاتھ باندھ دیے جائیں تو اس سے بڑی اور سخت سزا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی، معلوم نہیں پولیس کی تھرڈ ڈگری کے ''نصاب'' میں کھجلی شامل ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو ہم دعا کریں گے کہ کسی کو اس کا خیال نہ آئے ورنہ لوگ ایسے ایسے جرائم بھی قبول کر لیں گے جو کبھی ہوئے ہی نہ ہوں، ویسے قلم کاروں اور کالم نگاروں کے تو ہاتھ باندھنے کی بھی ضرورت نہیں صرف کاغذ قلم اگر چھین لیا جائے تو بے چارے کھجلی کے ہاتھوں ہی فوت ہو جائیں ۔۔۔ کیوں کہ ان کے جسموں میں لہو بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہہ سکیں کہ

ابھی تو بدن میں لہو ہے بہت
قلم چھین لے روشنائی نہ دے

کبھی کبھی تو کچھ کالم پڑھ کر، چینلوں کے بعض پروگرام دیکھ کر یا ایس ایم ایسز پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ بھی کہاں کہاں اور کیسے کیسے کھجاتے ہیں اور وہ بھی بزرگوں کے قول کے مطابق کھجلی نہ ہونے کے باوجود ... لیکن سب سے دل چسپ صورت وہ ہوتی ہے جب کوئی اپنی کھجلی چھوڑ کر کسی اور کے جسم پر کھجانے لگتا ہے، بسوں، ریلوں اور بھیڑ بھاڑ میں آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کوئی ''کھجاتا' تو اپنے جسم کو چاہتا ہے لیکن ہاتھ کسی اور کے جسم کو کھجانے لگتے ہیں اور پاکستان میں تو نہ جانے کیوں ایسے ''کھجانے والے'' اکثر پائے جاتے ہیں کبھی امریکا میں کھجاتے ہیں کبھی سعودی عرب میں اور کبھی ایرا ن توران میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھجانے کے بہانے تلاش کیے جاتے ہیں اور پھر وہاں ایسا کھجاتے ہیں ایسا کھجاتے ہیں کہ دیکھ کر دل و دماغ میں کھجلی ہونے لگتی ہے،

بہت سوچ سمجھ کر، غور و فکر کرتے اور کئی ماہرین جلد و امراض مخصوصہ یعنی ماہرین کھجاہٹ سے مشورہ کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ دراصل یہ بھی ایک کھجلی ہوتی ہے کہ جہاں کھجلی نہ ہو وہاں کھجایا جائے، ویسے کھجانے کے لیے ہزار بہانے بھی ایک کھجاہٹ ہی ہے، دو افراد میں ایک مہیش بھٹ تھا لیکن اس کے جسم پر کھجلی ہوتی تھی دوسرا گنجا سر کو کھجانے کے مرض میں مبتلا تھا دونوں کو ایک جگہ بند کر کے پابندی لگا دی گئی کچھ دیر تک تو وہ ضبط کرتے رہے لیکن کھجلی حد سے بڑھی تو جسم کھجانے والے نے کہا ایک مرتبہ میرا باپ میرے لیے ایک سوئٹر جو تنگ تھا لیکن میں نے یوں پہنا یوں کھینچا ادھر سے یوں ادھر کیا اور ادھر سے یوں کیا پھر سارے جسم میں یوں یہاں وہاں سے کھینچا... اس طرح اس نے اپنی کھجلی مٹائی، دوسرے نے کہا میرا باپ میرے لیے ٹوپی لایا تھا جو بہت تنگ تھی لیکن میں نے سر پر یوں پہنی یوں کھینچی یوں گھمائی، مطلب یوں ہوا کہ

کھجلی کرتے ہیں بہرحال کھجانے والے
Load Next Story