اکمل امریکا میں ہی رہے

پیپلز پارٹی کو یقین ہے کہ ملک کی جو حالت ہے اس میں اس کو سوائے ووٹ کے سب کچھ پڑ سکتا ہے


Abdul Qadir Hassan August 31, 2012
[email protected]

میرے عمر بھر کے پہلے صحافتی اور پھر ذاتی دوست سید اکمل علیمی لاہور سے امریکا گئے اور پھر اسی امریکا میں رہ گئے ہیں۔ وہ وائس آف امریکا کی اردو سروس میں 35 برس تک سروس کرنے کے بعد اب ریٹائر ہو کر پاکستان سے جدائی میں امریکی ریاست شمالی ورجینیا میں آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک بار بتایا تھا کہ امریکا میں کسی کو ملازمت سے ریٹائر نہیں کیا جاتا وہ خود ہی عملاً 'ایکسپائر' ہو کر نوکری سے الگ ہو جاتا ہے۔ امریکا یورپ کے کئی ملکوں کی طرح ایک ویلفیئر اسٹیٹ نہیں ہے جب آپ کام کر رہے ہوتے ہیں تو ہیلتھ انشورنس وغیرہ کے لیے خاصی رقم جمع کراتے رہتے ہیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ امریکا میں پنشن ہے یا نہیں لیکن کام کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والا بھوکا نہیں مرتا۔ عام امریکی فاقہ کشوں کی کمی نہیں ہے۔ امریکا سرمایہ داری نظام کا مرکز ہے اور اس نظام کی تمام خوبیاں اور خرابیاں اس میں موجود ہیں لیکن بات اکمل کی ہو رہی ہے جو مجھے بہت زیادہ یاد آتا ہے جب سے اس نے مجھے اطلاع دی کہ پاکستان کا سفر اب اس کی صحت برداشت نہیں کرتی تب سے میں اس جدائی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہوں۔

خالد حسن چلا گیا جو اکمل اور میرے درمیان ایک مستقل زندہ رابطہ تھا خالد پاکستان آتا جاتا رہتا تھا لیکن جو بھی جاتا ہے وہ ایک خلاء چھوڑ جاتا ہے میں ایک دوست سے کہہ رہا تھا کہ میں کوئی خلا چھوڑ کر نہیں جائوں گا ایک تو یہ کہ میں نے زندگی بھر سرے سے کوئی ایسا کام ہی نہیں کیا جو ادھورا رہ گیا ہو اور اس کے نامکمل رہ جانے کو خلا سمجھا جانے لگے دوسرے یہ کہ میری ذات میں کوئی ایسی جاذبیت نہیں کہ 'میں کل ادھر سے نہ گزروں گا تو کون دیکھے گا' والا معاملہ ہو۔

میں خالد حسن جیسی رنگارنگ شخصیت کا ذکر کر رہا تھا اور اس خلا کا جو وہ چھوڑ گیا ہے۔ اس سے قبل ہمارا ایک دوست چلا گیا۔ اکمل اور میرا دوست۔ یہ اس قدر رنج دے گیا کہ اس کے بعد میں ایک بار امریکا گیا اور اکمل سے مسلسل ملاقات رہی لیکن اس دوست کا نام نہ اس نے لیا نہ میں نے۔ ہم دونوں میں اتنی ہمت باقی نہیں تھی کہ اس دوست کو یاد کر سکتے یعنی اس کا نام زبان پر لا سکتے۔ کچھ دوست ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں مشترکہ دوست بھی مل کر یاد کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ زندگی کے ان المیوں کو زندگی کے قبرستان کے حوالے کر دیتے ہیں۔

سید اکمل علیمی کی یہ یاد مجھے اس کے لکھے ہوئے ایک مضمون سے تازہ ہوئی ہے جو لاہور کے ایک اخبار میں اس کی تصویر کے ساتھ شایع ہوا ہے۔ میڈیا اکمل کی زندگی رہی ہے یہ مضمون ''اردو ٹیلی ویژن نجی قبضے میں'' کے عنوان سے چھپا ہے جس میں پاکستانی ٹیلی وژن کے بارے میں عہد حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ اس مفید بحث سے کوئی فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھا سکے کیونکہ ہم بہت دور چلے گئے ہیں جہاں کسی قسم کی کوئی اصلاح بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

ہمارا پورا ملک گوناگوں الجھنوں اور بے سمتی کا شکار ہو گیا ہے۔ نفسانفسی تو انسانوں میں ہمیشہ رہی ہے لیکن ایسی بے حیا اور بے مقصد اور بے جہتی کبھی نہیں دیکھی گئی۔ جس ملک میں سب سے بڑی بحث یہ ہو کہ کسی کی ناجائز دولت بچانے کے لیے جو حربہ اختیار کیا جائے اسے عدالت عظمی بھی قبول کر لے۔ کسی من موجی کے خیال میں ملک کی تقسیم کا خیال آ جائے تو اس کے لیے باقاعدہ پارلیمانی ادارے بنائے جائیں تا کہ اسے قوم کے منتخب ارکان کا تحفظ حاصل رہے۔ نہ بجلی ہو نہ پانی ہو نہ بارش نہ جنگلوں کے پرندے محفوظ ہوں۔ مور اپنے حیران کن رنگوں والے پروں کے ساتھ زندگی سے محروم ہو کر ہوا میں بکھر جائیں۔ ایسے ہمہ گیر پریشان کن حالات میں امریکا میں مقیم کسی پاکستانی کی بات کون سنے کہ ہمارے ٹیلی وژن سے بازاری باتیں کیسے ختم ہوں۔

اندرون لاہور کا رہنے والا اکمل مجبور ہے کہ اپنے وطن مالوف کو یاد کرتا رہے اور ہمارے دل اور دماغ پر ضرب لگاتا رہے۔ امریکا جانا کچھ مشکل نہیں۔ ٹکٹ خرید سکتا ہوں جیب خرچ بھی کسی امریکی پاکستانی کے ذمے لگا سکتا ہوں اور قیام و طعام اکمل کے گھر لیکن یہ تو مسئلہ کا حل نہیں۔ مسئلہ بہت مشکل ہے اور وہ یوں ہے کہ اکمل کو لاہور واپس لایا جائے اور اس کی باقی ماندہ زندگی کو لاہور کے گلی کوچوں میں کھپا دیا جائے مگر اس دوران اگر ہمارے بچھڑے ہوئے لاہوری دوست یاد آئیں تو پھر اس لیے بہتر یہی ہے کہ جو جہاں رہے خوش رہے یاد کرتا اور کراتا رہے اور جس کی جتنی زندگی ہے وہ گزر جائے۔

فی الحال ایک سیاسی لیڈر سید منور حسن کو یاد کرتے ہیں جن کا تازہ اور آج کا نکتہ یہ فرمان کہ زرداری صاحب نے جمہوریت کو چلایا نہیں بلکہ چلتا کر دیا ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے یہ جملہ ہماری حکومت کا نسخہ کیمیا ہے۔ اس نے اس جمہوریت کے ذریعے بلاشبہ کون سا انتقام ہے جو نہیں لیا ہے یہ سلسلہ دھوم دھڑکے کے ساتھ جاری ہے اور حیرت ہے کہ پارٹی کے عوام دیدہ لوگ بھی اس قدر کند ذہن بن گئے ہیں کہ وہ جمہوریت کو سچ مچ انتقام سمجھتے لگے ہیں۔

ایک پُرلطف بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو یقین ہے کہ ملک کی جو حالت ہے اس میں اس کو سوائے ووٹ کے سب کچھ پڑ سکتا ہے لیکن ہر امیدوار کے لیے اس کی کچھ خاص ضروریات ہیں اور حالات ہیں ہر کسی نے کامیابی کی کوئی نہ کوئی امید لگا رکھی ہے لیکن کوئی لیڈر عوام کو بھی تو کوئی امید دلائے ان کے سامنے بھی زندگی کا کوئی وسیلہ لے کر آئے آخر وہ جمہوریت کا مسلسل انتقام کب تک برداشت کریں گے۔ یہ حالات دیکھتا ہوں تو اکمل کا پاکستان آنا بھول جاتا ہے وہ جہاں ہے وہاں خوش رہ سکتا ہے تو رہے اور گھر کو یاد کم از کم کرے۔ میڈیا اتنا دور رس ہے کہ وہ امریکا میں رہ کر پاکستان کے حالات سے ہماری طرح باخبر رہ سکتا ہے اور ہے۔

مقبول خبریں