بھارت کے حالیہ پانچ ریاستی انتخابات نے مجموعی طور پر بی جے پی اور نریندر مودی کے سیاسی جادو کو ہندوستان کی انتخابی سیاست میں برقرار رکھا ہے بلکہ نتائج کا ریموٹ کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یوں یہ تجزیئے غلط ثابت ہوگئے کہ بھارت میں بی جے پی اور نریندر مودی کا بیانیہ ناکام ہوگیا ہے ۔ اب نریندر مودی کی انتخابی سیاست کا جادو بھارت کی 78فیصد اقتدار کی سیاست پر ہمیں عملا غالب شکل میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں بشمول کانگریس یا دیگر علاقائی اتحادی جماعتیں مودی کی سیاست کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں ۔بی جے پی نے بالخصوص مغربی بنگال میں کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔ مغربی بنگال میں تقریبا 70فیصد ووٹرز نے بی جے پی کو ووٹ ڈالا یا ان کی حمایت کی ہے۔بی جے پی نے آسام میں بنگلادیشی مسلمان مہاجرین کے خلاف مہم چلائی، اس نے آسامی کے قبائلی اور ہندو ووٹرز کو اپنی ساتھ ملایااور یہ ہی حکمت عملی بی جے پی نے مغربی بنگال میں بھی اختیار کی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی کی حکومت اور اختیارات کی موجودگی مضبوط پارٹی پوزیشن یا مینجمنٹ ،میڈیا کا بھر پور استعمال اور موثر سطح کی انتخابی مہم ان کی جیت کا اہم فیکٹر رہا ۔اگرچہ ان کے سیاسی مخالفین الزام لگارہے ہیں کہ مودی حکومت نے انتخابات کی جیت میں کافی حد تک ناجائز ذرائع یا الیکشن کمیشن یا ووٹرز لسٹ میں من پسند تبدیلی جیسی حکمت عملی اختیار کی اور اس سے بھارت کا انتخاب کا عمل متنازعہ عمل کا حصہ بن گیا ہے ۔لیکن اس کے باوجود یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مودی حکومت اور ان کی انتخابی مہم میں علاقائی مسائل ،مقامی مسائل جن میں لوگوں کی سطح پر موجود بے روزگاری،عورتوں کے حقوق،مہنگائی سمیت دیگر بنیادی مسائل کو بنیاد بنا کر انتخابی ہم کی مدد سے ووٹروں کو اپنی طرف ان کا متوجہ کرنا تھا۔بی جے پی کی جیت کی ایک بڑی وجہ ان کے سیاسی مخالفین کا اتحاد کی صورت میں انتخاب نہیں لڑنا تھا اور یہ سب نہ صرف تقسیم نظر آئے یا تقسیم تھے اور اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو بطور جماعت انتخابات میں جیت کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔
اس لیے الیکشن کی سطح پر دھاندلی یا الیکشن کمیشن کی حیثیت پر یقینا سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ مودی کی جیت محض الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری تک محدود ہے درست تجزیہ نہیں ۔نریندر مودی کے سیاسی مخالفین کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی انتخابی سیاست حکمت عملی بی جے پی کے مقابلے میں ناکام ہوئی ہے۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ممتا بنرجی کی حکومت پرکرپشن،بے روزگاری ،عورتوں کے مسائل کا حل نہ ہونا جیسے امور بھی پیش پیش رہے اور ہمیں ممتا بنرجی کی مہم بھی بی جے پی کی مہم کے مقابلے میں یا تو کمزور نظر آئی یا وہ ایک لمبے اقتدار کی وجہ سے خوش فہمی کی سیاست کا شکار زیادہ نظر آئے جو خود ان کی شکست کا سبب بنا ہے۔ ممتا بنرجی خود بھی انتخاب ہار گئی ہیں ۔لیکن ان کے بقول وہ اپنے نئے سیاسی کردار میں بی جے پی کے لیے پہلے سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوںگی اور مودی کے لیے یہاں حکومت کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہ انتخابات کانگریس،کیمونسٹ یا مارکسسٹ پارٹی،ٹی ایم سی کے لیے بہت زیادہ سبق دیتے ہیں کہ ان کی انتخابی سیاست سکڑ رہی ہے جب کہ ان کے مقابلے میں قوم پرستی ،مذہب یا مذہبی انتہا پسندی یا جین زی کی سیاست مقبول ہورہی ہے ۔تامل ناڈو میں اداکار وجے کی بڑی جیت عملا نوجوانوں کی جیت ہے۔اصل میں ساوتھ ایشیا کی سیاست میں نئی نسل کافی غصہ میں ہے اس کی جھلک ہم بنگلہ دیش،پاکستان اور اب تامل ناڈو میں بھی دیکھ چکے ہیں ۔یہ طبقہ فوری تبدیلی کا حامی ہے ۔اداکار وجے فلموں میں عملا سب کچھ فوری طور پر تبدیل کردیتے تھے یا انقلاب پیدا کردیتے تھے ۔اسی وجہ سے لوگ ان کو پسند کرتے تھے۔
بھارت کی سیاست میں دو فیکٹر ایک نئی نسل کا بی جے پی یا آر ایس ایس کی سیاست سے جڑنا یا پھر اس کی جگہ روائتی یا انتہا پسندی کی سیاست کے مقابلے میں بڑی اور علاقائی جماعتوں کی روائتی سیاست کو خیر آباد کہہ کر پاپولر سیاست کا حصہ بن کر وہ اپنی سیاسی حیثیت کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں ،کانگریس،کیمونسٹ اور ٹی ایم سی کو اپنی سیاست کی حکمت عملی میں تبدیلی لانا ہوگی اور کچھ ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کچھ نیا کرکے دکھانا ہوگا۔مسئلہ بھارتی سطح پر نظریاتی سیاست کا نہیں اور نہ ہی اب نظریات کی بنیاد پر سیاست ہورہی ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ بھارت کا عام آدمی یا ووٹر مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں سے کسی حد تک مطمن نظر آتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب بھارت میں موجود مضبوط علاقائی جماعتیں بھی مودی مخالف سیاست میں کمُزور نظر آرہی ہیں۔
اس کے لیے مودی کے سیاسی مخالفین کو نئی سیاست اور نئی حکمت عملی یا ووٹرز کی بنیاد پر نیا فہم درکارہے۔ مودی کے مخالفین کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مودی عملا اپنے ووٹروں کو اپنی طرف لانے کے لیے پاکستان مخالف یا مسلم دشمنی کا کارڈ بھی کھیلتا ہے جو عملی سطح پر بھارت کی داخلی سیاسی سطح پر ہندواتہ کی سیاست کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے ۔ایسے میں جو لوگ بھارت میں سیکولر سیاست کے حامی ہیں ان کے لیے بڑا چیلنج یہ ہی ہے کہ وہ کیسے ہندواتہ کی سیاست سے بھارت کو بچاسکیں۔ اصل میں جو نئی نسل ہے اس کا پرانی روائتی یا نظریاتی جماعتوں سے کوئی ربط نہیں اور نہ ہی یہ پرانی جماعتیں نئی نسل کے لوگوں کی بات سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کیونکہ نئی نسل سمجھتی ہے، یہ نظریات پرانے ہوگئے ہیں۔
ان سے ہمارے پیٹ نہیں بھرے جاسکتے اور ہمیں متبادل راستہ تلاش کرنا ہوگا۔اس نسل کو تامل ناڈو کے انتخابات ک صورت میں اداکار وجے کی صورت میں نیا کردار ملا ہے ۔اب اس طرز کے نئے کردار ہمیں مستقبل کی بھارت کی سیاست میںمزید دیکھنے کو مل سکتے ہیںیا خود سیاسی جماعتیں اس طرز کے پاپولر کردار کو بنیاد بنا کر ان لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں گی۔البتہ ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تامل ناڈو میں ہندو اکثریت پر مبنی علاقے میں مودی کا ہندواتہ کا جادو نہ چلنا بھی اہم ہے کہ وہاں مودی کا جادو نہیں چل سکا۔مگر اس کے باوجود اگراب نریندر مودی کے مخالفین کو مودی کا مقابلہ کرنا ہے تو پرانی حکمت عملیوں کے ساتھ کچھ نہیں ہوسکے گا۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی تبدیلوں اور انتخابی حکمت عملی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔